جوڈیشل ایکٹوزم سے اسرائیل یا امریکا جیسےحالات بنتےہیں:چیف جسٹس
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت متعدد بار نیب قوانین شفافیت لانے کا کہہ چکی، لیکن عمل نہیں ہوا۔ جوڈیشل ایکٹوزم سے امریکا یا اسرائیل جیسے حالات بنتے ہیں۔ امریکا کی دو بڑی سیاسی جاعتیں عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار نیب ترامیم کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارس کیے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ اس موقعے پرعدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث عمران خان کی ناقابل ضمانت گرفتاری کیس میں مصروف ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دوسری جانب سے دلائل سن رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کبھی کبھی جو عدالت میں کہوں اس کا وہ مطلب نہیں ہوتا جو سمجھا جاتا ہے۔ واضح کرچکا ہوں کہ بدعنوانی سے تفریق پیدا ہوتی ہے اور معاشرے میں نا انصافی فروغ پاتی ہے۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ میرے خیال میں 2019ء کی ایمنسٹی اسکیم کامیاب رہی جس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچا۔