سوشل میڈیا سے حاصل کردہ پانچ دسمبر 2025 کی الخریطیات جہاز کی تصویر جو نو مئی 2026 کو قطر کے راس لفان سے پاکستان کے پورٹ قاسم کے لیے روانہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گذر رہا ہے۔ (رائٹرز/فائل)

اپریل کے بعد سے دوسرا ایل این جی سپاٹ کارگو پاکستان پہنچ گیا

پاکستان نے گذشتہ ماہ فراہم کنندگان سے ایل این جی کے لیے بولی طلب کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز عمان سے ایک بحری جہاز پورٹ قاسم پہنچا جو پاکستان کو ملنے والا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا جہاز ہے، ایک اہلکار نے بتایا جیسا کہ ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے درمیان اسلام آباد اپنے توانائی کے ذخائر کو تقویت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

بندرگاہ کے برائے افسر برائے تعلقاتِ عامہ الطاف حسین وارثی نے ایک بیان میں کہا، "بی ڈبلیو ہیلیوز" نامی جہاز اتوار کو پورٹ قاسم پہنچا اور پی جی پی سی ایل ٹرمینل پر دوپہر 12:24 پر کنارے پر رک گیا۔ طے شدہ اوقات کے مطابق آپریشنل سرگرمیوں کے آغاز کے لیے جہاز کو کنارے سے لگا دیا گیا ہے۔ لوڈنگ آپریشنز اور روانگی کے اوقات کی مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی آگاہ کیا جائے گا۔"

ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان کو اپنا پہلا ایل این جی سپاٹ کارگو 30 اپریل کو موصول ہوا تھا۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل میں مسلسل رکاوٹوں کے باعث اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان نے گذشتہ ماہ بین الاقوامی فراہم کنندگان سے دو سپاٹ ایل این جی کارگوز کے لیے بولی طلب کی تھی۔

پاکستان ادارۂ شماریات کے مطابق مارچ میں ایران تنازعے سے توانائی کی علاقائی تجارت متأثر ہوئی اور پاکستان صرف 70.2 ملین ڈالر مالیت کی ایل این جی درآمد کر سکا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں