افغانستان میں بحران، پاکستانی ادویات پر پابندی سے مارکیٹ میں ہلچل، قیمتوں میں اضافہ
افغانستان اپنی ادویات کی 70 فیصد ضرورت پاکستانی مارکیٹ سے پوری کرتا ہے
افغانستان کو کئی مہینوں سے ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی کے بعد یہ بحران پیدا ہوا ہے، جس نے فارمیسیوں اور ہسپتالوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق افغانستان اپنی ادویات کی 70 فیصد ضرورت پاکستانی منڈیوں سے پوری کرتا تھا لیکن گزشتہ سال اکتوبر میں طالبان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد، حکام نے پاکستان کے ساتھ تجارت روک دی تھی۔
گذشتہ نومبر میں طالبان حکومت میں اقتصادی امور کے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر نے افغان تاجروں اور کمپنیوں کو پاکستان کے ساتھ تجارت بند کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی تھی۔ طالبان حکومت کی وزارت خزانہ نے نو فروری 2026 ءسے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی اور کہا کہ اس مہلت کے بعد پاکستانی ادویات کی فروخت غیر قانونی تصور کی جائے گی۔
پاکستانی ادویات کا متبادل تلاش کرنے میں دشواری
افغانستان میں فارماسیوٹیکل سروسز یونین کا ماننا ہے کہ افغان عوام کے لیے پاکستانی ادویات کی جگہ دوسری ادویات استعمال کرنا مشکل ہے، کیونکہ یہ ادویات گزشتہ تیس سالوں سے افغان مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر موجود رہی ہیں۔
متبادل کی تلاش میں، روسی دوا ساز کمپنی "فارماسنتھ" نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغان محکمہ صحت کے ساتھ معاہدے کے بعد موسم گرما کے دوران افغانستان کو ادویات برآمد کرنا شروع کر دے گی، اور پہلی کھیپ دو ماہ کے اندر پہنچ جائے گی۔
طالبان پاکستانی ادویات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہندوستانی، ایرانی، ازبک اور ترک کمپنیوں کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں، لیکن ان اقدامات کے اثرات اب تک قیمتوں پر واضح طور پر ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔
ایک افغان دوا فروش کے مطابق ایران اور ہندوستان سے ادویات کی نقل و حمل اور ترسیل کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی راستوں کی بندش کے باعث ہندوستانی ادویات کی ترسیل رک گئی ہے جو پہلے پاکستان میں کراچی کی بندرگاہ کے راستے آتی تھیں۔
کابل کے ایک ڈاکٹر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ ہندوستان سے افغانستان تک ادویات پہنچانے کا نیا راستہ ایران کے ساتھ اسلام قلعہ بارڈر کراسنگ سے تھا، جس کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوا، لیکن موجودہ صورتحال میں، ایران سے متعلق کشیدگی اور امریکی پابندیوں کے سبب، ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے راستے ہندوستانی ادویات کی افغانستان ترسیل کا عمل رک گیا ہے۔
اسمگلنگ مارکیٹ کے خلا کو ظاہر کرتی ہے
کابل کے ایک رہائشی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان ادویات کی کمی کا سامنا ہے جو وہ پہلے استعمال کرتے تھے۔ ڈاکٹروں اور دوا فروشوں کو کچھ نئی درآمد شدہ ادویات کے بارے میں معلومات نہیں ہیں، کیونکہ وہ برسوں تک مریضوں کو صرف پاکستانی ادویات ہی دیتے رہے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ مریض اب ان پاکستانی ادویات کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ موجودہ پابندی کے باوجود وہ اسمگلنگ کے راستوں سے آنے والی پاکستانی ادویات تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ اس بات کی تصدیق افغانستان میں متعدد فارمیسی مالکان اور ڈاکٹروں نے کی ہے۔
گذشتہ مہینوں کے دوران طالبان حکام نے پاکستان سے اسمگل شدہ ادویات کی بڑی مقدار ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حال ہی میں صوبہ نیمروز میں پاکستان سے اسمگل ہونے والی کئی ٹن ادویات پکڑی گئیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پابندی کے باوجود پاکستانی ادویات کی مانگ ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک حصہ غیر رسمی راستوں پر منتقل ہو گیا ہے۔
تاہم "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ذرائع کے مطابق طالبان حکومت نے ادویات کے گوداموں کا سروے کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے پاس پاکستانی ادویات کا کتنا ذخیرہ موجود ہے اور انہیں مارکیٹ میں لانے کے لیے ایک ٹائم ٹیبل طے کر دیا گیا ہے۔ حکام نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پاکستان سے درآمد شدہ ادویات ذخیرہ کرنے والے ہر شخص کو سزا دی جائے گی تاکہ ان کی اسمگلنگ یا غیر قانونی فروخت کو روکا جا سکے۔
کابل میں فارمیسی کے مالک اور دواؤں کے درآمد کنندہ تواب احمد زئی کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ "جو دوا ہم پہلے 100 افغانی میں خریدتے تھے، اب اس کی قیمت بعض اوقات 150 سے 170 افغانی کے درمیان ہو گئی ہے۔"
متبادل کا فقدان
تواب احمد زئی مزید کہتے ہیں کہ افغانستان کے صحت کے شعبے کو درپیش اہم ترین مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ کچھ ایسی پاکستانی ادویات کا کوئی واضح متبادل موجود نہیں جو برسوں سے افغانستان میں معروف تھیں، اور مریضوں کو نئی متبادل ادویات استعمال کرنے پر قائل کرنا بھی ایک مشکل کام ہے۔
ادھر ماہر امراض متعدیہ ڈاکٹر محمد عارف شہاب بھی مریضوں کو خاص طور پر دائمی امراض میں مبتلا افراد کو، نئی ادویات استعمال کرنے پر قائل کرنے کی مشکل کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کی کچھ ادویات کے متبادل اب تک دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کو خود بھی مارکیٹ میں آنے والی نئی ادویات کے متبادل پر قائل ہونے اور ان کے معیار کی تصدیق کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔
ڈاکٹر شہاب "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ بات چیت میں افغانستان میں شعبہ صحت میں کسی بڑے اور خطرناک بحران کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستانی ادویات پر پابندی کی وجہ سے قلیل مدت میں چیلنجز کا سامنا کرنا فطری ہے، لیکن طویل مدت میں یہ فیصلہ صحت کے شعبے کو ایک اور بحران سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مقامی دوا ساز کمپنیاں اب زیادہ اقسام کی ادویات تیار کر رہی ہیں اور مستقبل میں وہ صحت اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوں گی۔
پاکستان سے ادویات کی درآمد روکنے کے فیصلے اور روس، ہندوستان، ایران، ازبکستان اور ترکی میں متبادل تلاش کرنے کی کوششوں کے درمیان، ڈاکٹروں اور دوا فروشوں کے مطابق افغانستان دواسازی کے شعبے میں ایک مشکل امتحان کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بحران صرف نئی کھیپ فراہم کرنے کا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا ہے کہ آیا یہ متبادل باقاعدگی سے، مناسب قیمتوں پر، اور ایسی کوالٹی کے ساتھ پہنچ سکیں گے جس پر ڈاکٹروں اور مریضوں کو اعتماد ہو۔
-
پاکستان : مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن سے جڑے ساڑھے چار ملین ڈالر کے غیر ملکی اکاؤنٹس منجمد
پاکستان کے احتسابی ادارے نیب نے ہفتے کے روز ساڑھے چار ملین ڈالر کے غیر ملکی ...
پاكستان -
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں جمود پر پاکستان کی جانب سے ''انتہائی اہم پیغام''
امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات میں جمود اور متضاد بیانات کے تسلسل کے درمیان ...
مشرق وسطی -
حجاج کی وطن واپسی جاری، کم از کم 34,000 پاکستانی عازمین واپس پہنچ گئے
وزارتِ مذہبی امور نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ کم از کم 34,000 پاکستانی عازمین ...
پاكستان