.

کیا براک اوباما سے نوبل امن انعام واپس لے لیا جانا چاہیے؟

ڈرون حملے، گوانتانامو بے اور شامی بحران، امریکی صدر کو نوازنے پر سوالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2013ء کا اختتام ہونے کو ہے لیکن افغانستان ،پاکستان اور یمن میں امریکا کی ڈرون جنگیں جاری ہیں،صدر براک اوباما اپنے وعدے کے مطابق بدنام زمانہ عقوبت خانے گوانتانامو بے کو بند کرنےمیں ناکام رہے ہیں اور وہ شامی صدر بشارالاسد کو اپنے ہی عوام کے قتل عام سے روکنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔امریکی صدر کی گذشتہ چار سال پر محیط ناکامیوں کی اس داستان کے پیش نظر یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ ان سے نوبل امن انعام واپس لے لیا جانا چاہیے۔

یمن کی پارلیمان نے اسی ہفتے ایک علامتی قرارداد منظور کی ہے جس میں امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس سے پہلے پاکستان کی پارلیمان بھی قراردادوں کے ذریعے اپنی سرزمین پر امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملے روکنے کا مطالبہ کرچکی ہے اور ملک کی دینی وسیاسی جماعتیں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔

صدر اوباما کو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کی وجہ سے سب سے زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔سعودی عرب کے بااثر شہزادے اور سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکا کو مشرق وسطیٰ کے بارے میں کوئی فیصلہ کن اقدام نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان کے علاوہ اور آوازیں بھی امریکا اور اس کے صدر کے خلاف اٹھ رہی ہیں۔

اس سال اگست میں جب شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے دمشق کے نواح میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کیا تو اس کے فوری بعد امریکی صدر نے شام پر فوجی چڑھائی کی دھمکی دی اور انھوں نے ایسا سماں باندھا کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف امریکا کا فوجی اقدام ناگزیر نظر آرہا تھا۔

اس دوران ایک سویڈش رپورٹر نے ان سے ایک سوال کیا جو بہت سوں کے ذہنوں میں تھا کہ کیا وہ نوبل امن انعام وصول پانے کے باوجود شام پر فوجی حملے کے لیے تیار ہیں؟چنانچہ انھیں جب اس طرح کے سوالوں کا سامنا ہوا تو انھوں نے کانگریس سے حملے کی منظوری کی اجازت طلب کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اس کے بعد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے سمجھوتا طے پاگیا۔شہزادہ ترکی کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ نے صدر بشارالاسد کی ''کلنگ مشین'' کے مقابلے میں زیادہ اعتدال پسند اور سیکولر شامیوں کی امداد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

جنگ کی ضرورت

براک اوباما کو 2009ء میں عوام میں بین الاقوامی سفارت کاری اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی غیر معمولی کوششوں کے اعتراف میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

ناروے کی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نوبل امن کمیٹی کے پانچ ارکان سات ماہ تک اس بات پر غوروخوض کرتے رہے تھے کہ کس کو نوبل امن انعام سے نوازا جائے۔براک اوباما کمیٹی کے فیصلے سے نو ماہ قبل ہی صدر امریکا بنے تھے۔انھوں نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے اپنا ایک وژن پیش کیا تھا اور وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔

ناروے نوبل کمیٹی کے مستقل سیکرٹری جیر لنڈیسٹاڈ نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''2009ء میں اوباما بین الاقوامی تعاون کے سرکردہ ترجمان کے طور پر سامنے آئے تھے تاکہ اس کے ذریعے مباحثے اور مذاکرات کے لیے کثیر الجہت اداروں کو مضبوط بنایا جاسکے''۔

لنڈیسٹاڈ نے ،جو ناروے کے نوبل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بھی ہیں،مزید کہا کہ ''اوباما نے نیو کلئیر فری دنیا کے لیے اپنا وژن پیش کیا تھا۔وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے ترجمان کے طور پرسامنے آئے تھے اور انھوں نے ایک نئی ماحولیاتی پالیسی کی حمایت کی تھی۔اس طرح وہ ان نظریات کے علمبردار کے طور پر سامنے آئے تھے جن کی ناروے کی نوبل کمیٹی گذشتہ کئی سال بلکہ گذشتہ کئی عشروں سے حمایت کررہی تھی''۔

تاہم براک اوباما کو نوبل انعام عطا کرنے کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا ،اس پر 2009ء ہی سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔کانگریس کے سابق ری پبلکن رکن مائِیکل پی فلنگن نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کا نوبل انعام دینے کے لیے احمقانہ اور مضحکہ خیز طریق کار اختیار کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ''فزکس کا نوبل انعام دینے کا فیصلہ ماہرین ،دنیا بھر کے معروف طبیعات دانوں اور اس مضمون میں سابق نوبل انعام یافتگان پر مشتمل کمیٹی کرتی ہے۔اس طرح جس نتیجے پر اتفاق کیا جاتا ہے،آپ اس پر اعتماد کرتے ہیں لیکن امن کا نوبل انعام دینے کے لیے ایسا کوئی طریق کار نہیں ہے۔اس کا نحصار ناروے کے لبرل سیاست دانوں کی سوچ پر ہے''۔

''براک اوباما:دی اسٹوری'' کے عنوان سے کتاب کے مصنف پلٹزرانعام یافتہ ڈیوڈ مارنیس نے بھی امریکی صدر کو نوبل انعام دینے کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ ''صدر نوبل انعام کے حق دار نہیں تھے۔انھیں امریکی صدر کے طور پر یہ انعام نہیں دیا گیا تھا بلکہ اوباما کی عالمی شناخت اور تاریخ کے پیش نظر انھیں اس انعام سے نوازا گیا تھا''۔

لیکن لنڈیسٹاڈ اس ضمن میں سویڈیش کیمیادان اور موجد الفریڈ نوبل کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے لکھا تھا کہ نوبل انعام کے امیدواروں کو ان کی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے۔انھوں نے بتایا کہ ''بالعموم ہم گذشتہ برسوں یا پھر پوری زندگی پر محیط کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔جب ہم نوبل کے سوال کی جانب لوٹتے ہیں تو پھر واضح جواب براک اوباما ہی تھے''۔

اوباما کی ڈرون جنگیں

براک اوباما کو تو دنیا میں قیام امن کے لیے منفرد اور نئے نظریات پیش کرنے پر نوبل انعام سے نوازا گیا تھا اور انھوں نے یہ عالمی اعزاز حاصل کرتے وقت جنگ کو امن سے قبل کے دور کا دیباچہ قراردیا تھا لیکن انعام وصول پانے کے چار سال کے بعد بھی ان کی پاکستان ،یمن اور افغانستان میں ڈرون جنگیں جاری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی ڈرون پالیسی سے زندگی اور موت سے متعلق صدارتی اختیارات کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔مصنف مارنیس کے بہ قول اوباما یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ ان کی پالیسی سے جتنے لوگوں کی زندگیاں لی جارہی ہیں،اس سے زیادہ کا تحفظ کیا جارہا ہے لیکن ڈرون امن کی علامت نہیں ہیں۔

اکتوبر میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکا کے ڈرون حملوں کی پراسراریت کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ سی آئی اے کے جو عہدے دار پاکستان اور یمن میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم کے ذمے دار ہیں،انھوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔

ایمنسٹی کے پاکستان میں محقق مصطفیٰ قادری کا کہنا ہے کہ ''ڈرون پروگرام سے متعلق پراسراریت سے امریکی انتظامیہ کو عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کے معیارات سے ماورا قتل کرنے کا لائسنس حاصل ہوگیا ہے''۔

ڈرون حملوں میں اضافہ

اوباما انتظامیہ کے دور میں پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ان کے پیش رو سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں 2004ء سے 2009ء تک پاکستان کی سرزمین پر اکیاون ڈرون حملے کیے گئے تھے اور ان میں 595 افراد مارے گئے تھے۔

لندن میں قائم تحقیقاتی صحافت کے بیورو کی رپورٹ کے مطابق بش اور اوباما دونوں کے ادوار حکومت میں 2004ء سے 2013ء تک پاکستان میں کل 376 ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ان میں 3613 افراد مارے گئے تھے اور ان میں 926 عام شہری تھے۔ان 376 ڈرون حملوں میں 325 براک اوباما کی اجازت سے کیے گئے ہیں۔

ایمنسٹی نے اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فضائی اور ڈرون حملوں کی تحقیقات کرے اور اس بات کا بھی جائزہ لے کہ آیا پاکستانی عہدے دار تو ڈرون حملوں کے لیے معلومات فراہم کرنے میں ملوث نہیں ہیں۔

امریکا نے یمن میں 2002ء سے 2013ء تک قریباً 90 ڈرون اور فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں بش انتظامیہ کے دور میں صرف ایک حملہ کیا گیا تھا۔ان تمام حملوں میں یمن میں 885 افراد مارے گئے تھے۔ان میں بھی 66 عام شہری اور 51 نامعلوم تھے۔

براک اوباما کے دفاع میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ انھیں عراق اور افغانستان کی دو جنگیں بش انتظامیہ سے وراثت سے ملی تھیں۔امریکا کے ایک سینیر فوجی عہدے دار کے بہ قول انھوں نے ایک جنگ کو تو کامیابی سے ختم کردیا اور دوسری کو محدود کردیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے دنیا بھر میں امریکا کی خفیہ جیلوں اور حراستی مراکز کو بھی ختم کردیا ہے۔

لیکن گوانتا نامو بے کا بدنام زمانہ حراستی مرکز بدستور موجود ہے جو امریکا کے چہرے پر کلنک کا داغ بنا ہوا ہے۔اس حراستی مرکز میں اس وقت دنیا بھر سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے ایک سو ساٹھ قیدی موجود ہیں مگر ان کے خلاف بارہ تیرہ سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے۔بعض امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ براک اوباما ابھی تک اس عقوبت خانے کو بند کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ڈرون جنگوں ،گوانتاناموبے اور شام پر سوالات کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نومبر میں جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے سے براک اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔اب وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کرانے کے لیے کوشاں ہیں اور مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے امریکا کی ثالثی ہی میں مذاکرات جاری ہیں۔

امریکا کے چوالیسویں صدر کی امن کوششوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہے کہ کیا انھیں نوبل انعام سے محروم کردیا جانا چاہیے اور کیا نوبل کمیٹی اس انعام کو کالعدم قراردے سکتی ہے؟ مسٹر لنڈیسٹاڈ کا کہنا ہے''ایسا نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ جب آپ کسی کو انعام دے دیتے ہیں تو پھر اس کو واپس نہیں لے سکتے''۔

انھوں نے کہا کہ ''براک اوباما کو اس صورت حال کی بنا پر انعام دیا گیا تھا جس کو ہم نے دیکھا تھا۔اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والا بعد کے آنے والوں برسوں میں بھی پہلے کی طرح ہی کردار وعمل کا مظاہرہ کرے گا۔ہر کوئی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ امریکی صدر بہت سے امور میں الجھا ہوتا ہے اور ان میں بعض تو بہت ہی خطرناک قسم کے ہوتے ہیں''۔