خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کی قدر کرتے ہیں، ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے خواہاں ہیں : روبیو
اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں آج جمعرات کے روز خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا وزارتی اجلاس شروع ہوا۔ روبیو خطے کے ممالک کے دورے کے سلسلے میں بحرین پہنچے ہیں۔
اپنے خلیجی ہم منصبوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "آبنائے ہرمز میں ٹیکس (فیس) عائد کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے پوری دنیا میں بد امنی پھیلے گی۔"
روبيو: لن نقبل التوصل لاتفاق مع إيران يتعارض مع مصالح دول الخليج pic.twitter.com/JqFUUvFj4l
— العربية (@AlArabiya) June 25, 2026
روبیو نے مزید کہا "آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ ہم ایران کے ساتھ ایک اچھا اور حقیقی معاہدہ چاہتے ہیں لیکن ہر قیمت پر نہیں"۔ انہوں نے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایک ایسے پائیدار امن کے لیے فراخی رکھتا ہے جو امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی سکیورٹی اور خوشحالی کو نقصان نہ پہنچائے۔
روبیو نے کہا "ہم خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کی قدر کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک اور امریکہ کا یہ اجلاس اہم ہے، ایسی اقوام کے درمیان جنہوں نے دہائیوں تک مل کر کام کیا ہے"۔
روبيو: نقدر ونثمن التعاون مع دول الخليج.. ونأمل التوصل لاتفاق نهائي مع إيران pic.twitter.com/MByCMLfdic
— العربية (@AlArabiya) June 25, 2026
روبیو نے زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم یہ قبول نہیں کریں گے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو۔" انہوں نے یقین دلایا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت کوئی بھی فیصلہ اتحادیوں کے مفادات کو مد نظر رکھے گا۔"
انہوں نے کہا "اگر ایران اپنی نظریاتی برآمد کو روک کر اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنا چاہے تو ہم اس کی مدد کے لیے تیار ہیں۔"
موفد العربية هاني الصفيان يرصد أبرز الملفات على جدول أعمال الاجتماع الخليجي الأميركي في المنامة: دعم خليجي للمبادرات الرامية لحل النزاعات عبر الحوار.. ولقاء روبيو سيناقش التداعيات الإقليمية لمذكرة التفاهم بين واشنطن وطهران وبرنامج الصواريخ الإيرانية وأمن الملاحة وإمدادات الطاقة pic.twitter.com/qBN3PTqKTX
— العربية (@AlArabiya) June 25, 2026
یہ اجلاس امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد کی صورتحال پر غور کر رہا ہے۔ بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی سکیورٹی و استحکام کو فروغ دینے کے لیے ان کی مسلسل کوششیں بھی شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ روبیو بحرین میں اپنے خلیجی دورے کا اختتام کر رہے ہیں۔ ان کے دورے میں متحدہ عرب امارات اور کویت بھی شامل تھے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے بدھ کے روز زور دیا تھا کہ امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں کو ایران کے ساتھ ہونے والے "ان مذاکرات کے حوالے سے کیے جانے والے ہر فیصلے میں شامل رکھے گا۔"