.

فرانسیسی عدالت نے برقعے پر پابندی کا قانون برقرار رکھا

مسلم دوشیزہ کو حجاب اوڑھنے پر ایک ماہ معطل قید اور 150 یورو جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی ایک عدالت نے ایک نوجوان مسلم لڑکی کو عوامی مقام پر نقاب اوڑھنے کی پاداش میں قید اور جرمانے کی سزا سنادی ہے اور اس کی برقع اوڑھنے پر پابندی کے متنازعہ قانون کو غیر آئینی قراردینے کے لیے درخواست بھی مسترد کردی ہے۔

عدالت نے بیس سالہ کسندرہ بیلن کو اپنی گرفتاری کے وقت پولیس افسروں کی توہین اور انھیں ڈرانے دھمکانے پر بھی قصوروار قرار دیا ہے۔یہ واقعہ جولائی 2013ء میں پیرس کے نزدیک واقع قصبے ٹریپر میں پیش آیا تھا اور اس لڑکی کی گرفتاری کے خلاف دوروز تک مظاہرے کیے گئے تھے۔

عدالت نے اس مسلم دوشیزہ کو پولیس کے ساتھ جھگڑنے پر ایک ماہ معطل قید اور نقاب اوڑھنے پر ایک سو پچاس یورو (200ڈالرز)جرمانے کی سزا سنائی ہے۔وکلائے صفائی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے برقعے پر پابندی کے قانون کو مذہبی آزادی کے منافی قراردیا اور کہا کہ اس سے غیر منصفانہ طور پر مسلمانوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان کی موکلہ کو سزا سنانے سے قبل برقع پر پابندی کے قانون کی آئینی حیثیت کے بارے میں اپنا فیصلہ دے لیکن عدالت نے یہ کہہ کر ان کی درخواست کو مسترد کردیا کہ آئینی کونسل پہلے ہی 2011ء کے قانون کو جائز قراردے چکی ہے۔

مس بیلن کے ایک وکیل فلپ باٹیل کا کہنا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے پر غور کررہے ہیں۔انھوں نے برقع پر پابندی کے قانون کو کالعدم قراردلوانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق اس سال کے آخر میں فرانس اور بیلجئیم میں برقع پر پابندی سے متعلق قانون کے بارے میں اپنا حکم صادر کرے گی۔یورپی عدالت میں ایک فرانسیسی مسلم خاتون نے درخواست دائر کی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ برقع اوڑھنے پر پابندی ان کے مذہبی آزادی سے متعلق حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ یہ اظہاررائے اور اجتماع کی آزادی کے حق کے بھی منافی ہے۔

فرانس کا یہ کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مسلم نقاب یا حجاب اوڑھنے پر پابندی ضروری تھی۔نیز ملک کی سیکولر روایات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی یہ اقدام ضروری تھا لیکن اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی ہی کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے تو پھر موٹرسائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ پہننے پر بھی پابندی عاید کی جانی چاہیے کیونکہ قانون کے تحت نظری طور پر ڈھانپے گئے تمام چہروں پر پابندی عاید ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق صرف مسلمانوں کے خلاف کیا جارہا ہے اور فرانس میں نقاب اوڑھنے والی مسلم خواتین ہی کو گرفتار کیا گیا ہے۔