قطر ائیرویز کو''شارٹ اسکرٹس'' کے اشتہار پر تنقید کا سامنا

مردوخواتین عملے کے لیے لباس کی الگ الگ شرائط پر ناروے کے محتسب کا اعتراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قطر کی قومی فضائی کمپنی کو اسی ہفتے عملے کے لیے ملبوسات کی الگ الگ شرائط پر ناروے کے انسداد امتیازات محتسب کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قطر ائیرویز نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں عملے کی بھرتی کے لیے ایک ایسا اشتہار شائع کرایا تھا جس میں خواتین سے کہا گیا تھا کہ وہ شارٹ سکرٹس پہن کر آئیں مگر مردوں سے یہ کہا گیا کہ وہ ''بزنس سوٹ''پہن کر آسکتے ہیں۔

ناروے کی ایک نیوزویب سائٹ ''لوکل'' کے مطابق بعد میں اس اشتہار کو تبدیل کردیا گیا اور اس میں یہ کہا گیا کہ خواتین اور مرد دونوں بھرتی کے لیے ''بزنس ملبوسات'' میں آسکتے ہیں۔

ناروے کے انسداد امتیازات گروپ کے مشیر کارل فریڈرک ریس کا کہنا ہے کہ ''ہمارے خیال میں خواتین اور مردوں سے مختلف ملبوسات کا تقاضا کرنا قانون کے منافی ہے''۔

دبئی میں قائم بھرتی مشیر( ریکروٹمنٹ کنسلٹینٹس) میکنزی جونز کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ میکنزی کا کہنا ہے کہ اشتہار اخلاقی طور پر غلط تھا کیونکہ آپ ایسا امتیاز نہیں برت سکتے کہ فرد کی سکرٹ کتنی چھوٹی بڑی ہونی چاہیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں قطر ائیرویز کی ملازمت کے لیے احتیاجات کی ایک بیرونی ایجنسی نے شاید غلط تعبیر وتشریح کی ہے لیکن ان کی جانب سے ایسا اشتہار شائع کرایا جانا حیران کن ہے۔

اس فضائی کمپنی کی ویب سائٹ پر جنوری میں دبئی میں شائع کردہ اشتہار میں کہا گیا تھا کہ ''خواتین کو بزنس سوٹ پہننا چاہیے ،گھٹنوں تک سکرٹ ہو اور ساتھ چست پاجاما(ٹائٹس) نہیں ہونا چاہیے یا پھر جلدی رنگ کا چست پاجاما اور نصف بازو بلاؤز ہو۔بال خوبصورتی سے بنے ہوئے ہوں اور مناسب میک اپ کیا ہوا ہو''۔

اکتوبر میں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں عملے کی بھرتی کے لیے اسی قسم کا اشتہار دیا گیا تھا۔اس سے پہلے قطر ائیرویز نے ستمبر میں اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا جب اس نے اپنی ائیرہوسٹس پر یہ شرط عاید کی تھی کہ وہ شادی سے پہلے کمپنی سے اجازت لیں گی۔اس پر انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن نے سخت احتجاج کیا تھا۔

ٹریڈ فیڈریشن نے تب یہ بھی کہا تھا کہ قطر ائیرویز نے بھرتی کے معاہدے میں خواتین کے لیے یہ شق بھی شامل کی ہے کہ اگر وہ حمل سے ہوتی ہیں تو انھیں فوری طور پر اپنے سپر وائزر کو اس کی اطلاع کرنا ہوگی لیکن اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو انھیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں