.

فٹبال میچ دیکھنا حرام ہے: مصری عالم دین

لوگوں کو وقت ضائع کرنے سے روکنے کی کوشش کی: یاسر بوراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹ بال کے عالمی کپ کے لیے بین الاقوامی سطح پر جوش و خروش جب پورے زوروں پر ہے تو ایک انتہائی رجعت پسند اور مصر کے سلفی عالم دین نے فٹ بال میچ دیکھنے کو اسلامی نکتہ نگاہ سے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خالص پریشانی اور قوم کو تباہ کرنے والی سرگرمی ہے۔

مصر کی سلفی تحریک کے بانی رہنما یاسر بوراہمی کا کہنا ہے کہ عالمی کپ کے میچ دیکھنا ایک طرح کی تباہی ہے جو مجھے سخت ناگوار ہے۔ ''

انہوں نے مزید کہا'' میچ دیکھنے میں کھوئے رہنا مذہبی اور عالمی ذمہ داریوں سے غافل ہو جانے کے مترادف ہے جس کا نتیجہ قومی تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یاسر بوراہمی کا یہ بیان سلفی گروپ کی ویب سائٹ پر آپ لوڈ کیا گیا ہے۔ سلفی عالم دین کے مطابق فٹ بال میچ دیکھنے کے حرام ہونے اور اسلام میں ناقابل قبول ہونے کی ٘مخصوص شرائط ہیں۔''

ان کے بقول اگر یہ میچ کسی شخص کو اس کی مذہبی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے روکتا ہے، انسانی جسم کے ان حصوں کے ظاہر کرنے کا ذریعہ بنتا ہے جنہیں ڈھانپنے کا حکم ہے، اسی طرح اگر یہ میچ مسلمانوں کے دلوں میں غیر مسلموں کی محبت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں تو یہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر اسے حرام قرار دیا جاتا ہے۔

مصری عالم دین کی طرف سے ایک ایسے وقت میں جب مصری عوام فٹبال میچ دیکھنے کے لیے ٹی وی سے جڑَ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس فتوے کے سامنے آنے پر سخت رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔

ایک نجی مصری چینل سی بی سی کے اینکر کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال پر مصری عالم دین نے کہا '' میں نے تو لوگوں کو وقت ضائع کرنے سے بچنے کے لیے کہا ہے، اصل میں میری بات کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا گیا ہے۔

سلفی جماعت 2011 میں اخوان المسلمون کی حامی جماعت کے طور پر سامنے آئِی تھی لیکن بعد ازاں جلد ہی اس کی حمایت سے دستبردار ہو گئی تھی۔