جے ڈی وینس کے ایک منٹ بیس سیکنڈ کے تبصرے سے تل ابیب میں صف ماتم بچھ گئی

امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو صدر ٹرمپ پر حملوں کے بجائے زمینی حقائق دیکھنے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے بیشتر ہتھیار امریکا نے فراہم کیے۔

اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو پوری دنیا میں اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے دو تہائی ہتھیار امریکی ساختہ تھے جن کی تیاری امریکی ماہرین نے کی جبکہ ان کی مالی معاونت امریکی ٹیکس دہندگان نے کی۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ انہیں اسرائیلی وزرا کے بیانات پر افسوس ہوا جو ایسے ملک کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور دنیا کی سپر پاور بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے یہ مقف اختیار نہیں کیا، تاہم وہ ان وزرا کو پیغام دینا چاہتے ہیں جو صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ محتاط رویہ اختیار کریں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا نے امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل ایسے کسی معاہدے کا پابند نہیں ہوگا جو اس کی قومی سلامتی کو یقینی نہ بناتا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں