جے ڈی وینس کے ایک منٹ بیس سیکنڈ کے تبصرے سے تل ابیب میں صف ماتم بچھ گئی
امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو صدر ٹرمپ پر حملوں کے بجائے زمینی حقائق دیکھنے کا مشورہ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے بیشتر ہتھیار امریکا نے فراہم کیے۔
اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو پوری دنیا میں اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے دو تہائی ہتھیار امریکی ساختہ تھے جن کی تیاری امریکی ماہرین نے کی جبکہ ان کی مالی معاونت امریکی ٹیکس دہندگان نے کی۔
דקה ועשרים שניות של טקסט שקשה להיזכר מתי נאמר כמוהו על ידי איזשהו נשיא או סגן נשיא אמריקאי על איזושהי ממשלה ישראלית והעומד בראשה. למרות ההתנגשויות החריפות עם נתניהו, לא קלינטון, ולא אובמה, לא ביידן ולא האריס התקרבו בכלל לעוצמת הכעס הבוקע מכל מילה של סגן הנשיא ואנס, אולי הקול… pic.twitter.com/TxAhAzhN5J
— Ronen Bergman (@ronenbergman) June 18, 2026
امریکی نائب صدر نے کہا کہ انہیں اسرائیلی وزرا کے بیانات پر افسوس ہوا جو ایسے ملک کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور دنیا کی سپر پاور بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے یہ مقف اختیار نہیں کیا، تاہم وہ ان وزرا کو پیغام دینا چاہتے ہیں جو صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ محتاط رویہ اختیار کریں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں۔
JD Vance ends his press conference by turning on Israel: "What does bother me is you've seen people in Bibi's cabinet who have come out and attacked the deal and in some ways very personally attacked the president. My message to them is Donald J Trump is the only head in the… pic.twitter.com/7JfbbgPZm7
— Aaron Rupar (@atrupar) June 18, 2026
واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا نے امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل ایسے کسی معاہدے کا پابند نہیں ہوگا جو اس کی قومی سلامتی کو یقینی نہ بناتا ہو۔