اقوام متحدہ کے ترجمان غزہ میں اموات پر رو پڑے

اونروا کے اسکول پر اسرائیلی گولہ باری پر جذبات قابو میں نہ رکھ سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت کے خلاف انسانیت پسندوں کا دنیا بھر میں احتجاج جاری ہے لیکن غزہ میں بر سر زمین نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی بمباری کو بہ چشم خود ملاحظہ کرنے والے لوگوں کے جذبات واحساسات بالکل مختلف ہیں۔انہی میں فلسطینی مہاجرین کی آبادکاری اور ان کے لیے امداد کے انتظام وانصرام کی ذمے دار ایجنسی اونروا کے ترجمان کرس گنز بھی شامل ہیں۔

کرس گنزماضی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ رپورٹر کے طور پر وابستہ رہے ہیں۔اس لیے وہ دوسروں کی نسبت زمینی حقائق کوزیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ایک معاصر عرب نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران غزہ جنگ میں بچوں اور نہتے شہریوں کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور آنسوؤں سے رو دیے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو کے دوران اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی بہتیری کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے اور اونروا کے زیر اہتمام اسکولوں پر اسرائیلی گولہ باری سے بچوں ،خواتین اور امدادی کارکنان کی اموات پر پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔

مسٹر گنز نے غزہ مِں ایک دن گذارا ہے اور اونروا کے زیر اہتمام جگہوں اور اسکولوں میں اسرائیلی فوج کی جارحیت سے ہونے والی تباہ کاریوں کو ملاحظہ کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز ٹینک سے ایک اسکول پر گولہ باری کی تھی۔اس اسکول میں غزہ سے بے گھر ہونے والے تین ہزار تین سو افراد نے پناہ لے رکھی تھی لیکن اسرائیلی فوج نے اس کو بھی نہیں بخشا اور اس کے حملے میں سولہ افراد شہید ہوگئے تھے۔صہیونی فوج کی اس جارحیت کی دنیا بھر میں انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں نے شدید مذمت کی ہے۔

مسٹر گنز نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ''فلسطینیوں حتیٰ کہ ان کے بچوں کے حقوق کا بالکل نظرانداز کیا جارہا ہے اور یہ بہت ہی افسوس ناک امر ہے''۔

وہ انٹرویو کے اختتام پر باتھ سے اپنے آنسوؤں کو پونچھ رہے تھے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔اس دوران ان پر سے کیمرا ہٹا لیا گیا اور ان کا ایک ساتھی انھیں دلاسا دینے کے لیے آگے بڑھا۔کیمرا ہٹ جانے کے باوجود بھی ان کی رونے کی آواز صاف سنائی دے رہے تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں