.

شام میں علوی قبیلہ بھی صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم

صدراسد اپنے مقرربین کی وفاداریوں سے محروم ہونے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف تین سالہ تحریک بغاوت کے دوران علوی قبیلہ ان کے ہراول دستے کے طورپر باغیوں کےخلاف سرگرم رہا ہے، لیکن گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران باغیوں اور دیگرگروپوں کے ہاتھوں جس تواتر کے ساتھ علوی قبیلے کے لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے بعد یہ قبیلہ بھی صدراسد پرسخت برہم ہے۔ اسے شکوہ ہے کہ بشارالاسد صرف علوی لوگوں کو جنگ میں جھونک رہے ہیں جبکہ خود عیش وآرام کی زندگی بسرکرتے ہیں۔

علوی قبیلے کی برہمی کا اندازہ سوشل میڈیا پر جاری ایک مہم سے ہو رہا ہے۔ یہ مہم اسی قبیلے کے لوگوں نے فیس بک اور ٹیوٹر پر شروع کی ہے جسے"آپ کا اقتدار ہمارے بچوں کے لیے موت کا تابوت ثابت ہو رہا ہے" کا نام دیا گیا ہے۔ علوی قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزو اقارب کو جنگ میں اگلے مورچوں پر بھیجا جاتا ہے جبکہ صدر بشارالاسد اوران کے مقربین ودیگر حاشیہ بردار دمشق میں اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں رہتے ہیں۔ نیز گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران القلمون، حماتۃ، حمص اور دمشق کے مضافات میں سرکاری فوج نے باغیوں کےہاتھوں جو پسپائی اختیار کی ہے اس کے نتیجے میں علوی قبیلے کو غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بشارالاسد سے نالاں علوی قبیلے کے افراد نے حال ہی میں طرطوس شہر میں ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا جس میں باغیوں کے ہاتھوں قبیلے کے جانی نقصان کی تفصیلات کے ساتھ حکومت پرسخت غم وغصے کا اظہار بھی کیا گیا۔ مہم چلانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب سے حکومت کے خلاف بغاوت کی تحریک چلی ہے علوی قبیلے کے تین لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک او زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں اس قبیلے کے 60 ہزار سینیئر افسران بھی شامل تھے۔ ان میں بعض باضابطہ طور پرفوج میں شامل تھے جبکہ سیکڑوں افراد رضاکارانہ طورپر جنگ میں شریک رہے ہیں۔

علوی قبیلے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تحریک بغاوت کے دوران ری پبلیکن گارڈز کے 40 ہزار اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان میں اکثریت علوی قبیلے کے افراد پرمشتمل تھی۔ 45 ہزار سینیئر افسران بھی شامل تھے۔ ایک لاکھ 30 ہزار افراد زخمی ہوئے اور حکومت کی جانب سے ان کا علاج تک نہیں کیا گیا۔ ایک لاکھ 89 ہزار کارکنوں کو فوج نے حراست میں لیا اور ان پر بھگوڑے ہونے کے الزام میں مقدمات چلائے گئے۔

علوی قبیلے کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کے اقارب کو دانستہ طور پرجنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ جنگ میں جتنا نقصان ان کے قبیلے نے اٹھایا ہے اتنا کسی دوسرے گروپ یا طبقے کا نہیں ہوا ہے۔ خیال رہے کہ شام میں علوی قبیلے کو موجودہ حکمران طبقے بالخصوص صدر بشارالاسد کا سب سے زیادہ وفادار سمجھا جاتا ہے۔ علوی قبیلے کی جانب سے حکومت کےخلاف احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ بشارالاسد اب اپنے مقربین کی وفاداریوں سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔