شام میں داعش سے 8 سالہ کوسوو بچہ بازیاب
کوسووانٹیلی جنس کی کارروائی کے بعد بچے کی بحفاظت واپسی
کوسوو کی انٹیلی جنس ایجنسی (اے کے آئی) نے شام میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل اپنے ایک شہری سے اس کے آٹھ سالہ بچے کو بازیاب کرالیا ہے اور اس کو واپس کوسوو میں اس کی والدہ کے حوالے کر دیا ہے۔
کوسوو کے وزیراعظم ہاشم تھچی کے دفتر کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک آپریشن میں لڑکے ایریان زینا کا سراغ لگایا تھا اور اس کا پتا چلانے کے بعد اس کو بہ حفاظت واپس لا کر اس کی والدہ سے دوبارہ ملوا دیا ہے''۔
کوسوو کا ایک شہری عربن زینا اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو اس کی والدہ کی رضا مندی کے بغیر خانہ جنگی کا شکار ملک شام میں جہاد کے لیے لے گیا تھا۔کوسوو کے صدر عطیفیت جاہجگا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی والدہ پرانویرا زینا نے اس ریسکیو آپریشن کی منظوری دی تھی۔انھوں نے ہی بدھ کی رات پریسٹینا کے ہوائی اڈے پر اس لڑکے کا خیرمقدم کیا تھا۔
تاہم کوسوو کے خفیہ ادارے کی شام میں موجود لڑکے کی بازیابی کے لیے کارروائی کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے کہ اس نے کیسے اس کو داعش کے چُنگل سے بچا لیا ہے اور یہ سب کچھ کیونکر ممکن ہوا ہے؟اس کی والدہ پرانویرا زینا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ میرے لیے ایک بڑا دن ہے''۔
انھوں نے بتایا:''لڑکے کے والد نے انھیں کہا تھا کہ وہ اس کو سیر کے لیے لے جارہا ہے لیکن دراصل وہ اس کو پڑوسی ریاست البانیا لے گیا تھا،پھر اس نے ترکی کا رُخ کیا اور وہاں سے شام چلا گیا تھا جہاں وہ داعش میں شامل ہوگیا تھا''۔
کوسوو پولیس کے مطابق اس وقت ان کی ریاست کے قریباً ڈیڑھ سو باشندے شام موجود ہیں اور مختلف جنگجو گروپوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔کوسوو سے تعلق رکھنے والے سولہ جنگجو شام اور عراق میں لڑتے ہوئے مارے جاچکے ہیں۔ان میں بعض خودکش بمبار بھی تھے۔ حال مہینوں کے دوران کوسوو میں جہاد کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں پچپن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں پریسٹینا کی جامع مسجد کے امام شفقت کراسنیقی سمیت دس بارہ ائمہ بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ سربیا کے سابق مسلم اکثریتی صوبے کوسوو نے 2008ء میں یک طرفہ طور پر آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اب وہ ایک آزاد ریاست ہے۔ کوسوو کی سترہ لاکھ چالیس ہزارالبانوی نژاد آبادی میں نوّے فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔وہ اعتدال پسند اسلام کے پیروکار ہیں اور ان کے مغرب کے ساتھ بھی مضبوط سیاسی اور ثقافتی روابط استوار ہیں۔