اسرائیل کی سابق فوجی دوشیزہ داعش کی حراست میں!
شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف کردوں کے ہمراہ مل کر لڑنے والی ایک اسرائیلی سابق خاتون فوجی اہلکار کی داعش کے ہاتھوں گرفتاری کی ایک نئی خبر سامنے آئی ہے۔
اسرائیل اور مغربی ذرائع ابلاغ میں سابق خاتونی فوجی کے داعش کے چنگل میں پھنس جانے کی خبریں پچھلے چند روز سے تواتر کے ساتھ سامنے آنے لگی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی اس خبر کی کھوج لگانے اور مبینہ طور پر داعش کے زیر حراست اسرائیلی دوشیزہ کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اکتیس سالہ گیل روزن برگ کا تعلق کینیڈا سے ہے۔ اس نے دو سال تک اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دیں لیکن اس دوران اس کا امریکا میں معمر افراد کو دھوکا دہی کا ایک اسکینڈل سامنے آیا جس پر اسے فوجی ملازمت سے فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا کے حوالے بھی کر دیا گیا، جہاں اس کے خلاف فراڈ کے الزام میں مقدمہ بھی چلا اور تین سال قید کی سزا ہوئی۔
سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ پر بھی روزن برگ نے اپنا اکائونٹ بنا رکھا جہاں پر کینیڈا کا وائٹ روک آبائی اس کا شہر بتایا گیا ہے۔ اسرائیلی اور مغربی میڈیا کے مطابق روزن نے نومبر کے اوائل میں شام کا سفر کیا اور ترکی سے متصل شورش زدہ کرد اکثریتی علاقے کوبانی میں کرد جنگجوئوں سے مل کر داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے لگی۔
داعش کے ہاتھوں اس کی گرفتاری کی خبر سب سے پہلے شدت پسندوں کی مقرب خیال کی جانے والی ایک نیوز ویب سائٹ ’’شموخ الاسلام‘‘ پر شائع کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ سابق اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار کو کوبانی سے کئی دوسرے کرد جنگجوئوں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا ہے۔
بعد ازاں عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے اسرائیلی نیوز چینل 2 نے بھی رزن برگ کی داعش کے ہاتھوں گرفتاری کی تصدیق کی۔ عبرانی ٹی وی نے روزن برگ کے ’’ریڈیو اسرائیل‘‘ کو دیے گئے ایک مبینہ انٹرویو کا کچھ حصہ بھی شامل کیا جس میں اس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ اس کے کرد جنگجوئوں کے ساتھ رابطے ہیں اور وہ جلد کوبانی روانہ ہو جائے گی۔ کوبانی روانگی سے قبل وہ اردن کے راستے ترکی پہنچی جہاں سے وہ عراق میں عسکری تربیت کےحصول کے لیے بھی کچھ دن بغداد میں گذارنے کے بعد دوبارہ شام لوٹ آئی۔
اسرائیلی اخبار’’ہارٹز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق روزنگ برگ نامی سابق اسرائیلی فوجی اہلکار نے سنہ 2006ء میں اسرائیل کا سفر کیا، جہاں اس نے فوج میں شمولیت اختیار کی تاہم سنہ 2009ء میں اس کےخلاف امریکا میں دھوکا دہی اور معمر افراد کے ساتھ مالی ہیرا پھیری کا الزام عاید کیا گیا۔ اسرائیلی پولیس نے روزن کر گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کردیا۔ اس کی خواہش اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے موساد میں شمولیت کا بھی تھا تاہم اس کا یہ خواب بھی پورا نہیں ہو سکا۔
ایک طرف اسرائیلی میڈیا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ گیل روزن برگ داعش کی تحویل میں ہے تو وہیں دوسری جانب اس کی تردید بھی سامنے آ رہی ہے جس کے نتیجے میں ریٹائرڈ اسرائیلی فوجی خاتون کے بارے میں حقائق خلط ملط ہو رہے ہیں۔
میڈیار پورٹس کے مطابق کوبانی میں کردوں کے جس گروپ میں شمولیت کے لیے روزن نے اسرائیل سے سفر کیا اس کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔ کردوں کی تنظیم جو‘‘الابوجیہ‘‘، الببکہ اور انگریزی میں YPG کے مختصر نام کے ساتھ مشہور کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ روزن برگ داعش کی حراست میں نہیں ہے۔
برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق گیل روزن برگ 11 نومبر کو عراق کے راستے 10 دیگر جنگجوئوں کے ہمراہ شام کے علاقے کوبانی میں داخل ہوئی۔ اس کے ہمراہ آنے والے جنگجو بھی کردوں کی حمایت کے لیے آئے تھے۔
کرد تنظیم YPG کےفیس بک اور ٹویٹر کے صفحات پر بتایا گیا ہے کہ روزن برگ محفوظ مقام پر ہے اوراس کی داعش کے ہاتھوں گرفتاری کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
ایک کینیڈین اخبار’’فانکو فرصن‘‘ نے روزن کی ایک بچپن کی سہیلی کا بھی انٹرویو شائع کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ گیل روزن برگ 12 سال کی تھی جب اس کی خواہش اسرائیل کےدفاع میں جنگ میں حصہ لینی کی تھی اور وہ اس مقصد کے لیے اسرائیل جانے کی خواہش کا بھی اظہار کرتی رہی ہے۔ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے میں وہ کامیاب تو ہو گئی مگر امریکا میں دھوکہ دہی کے ایک مقدمہ میں الجھنے کے باعث اسے نوکری سے ہاتھ دھونے کے ساتھ تین سال امریکا میں جیل بھی کاٹنا پڑی۔
گیل روزن برگ کی داعش کے ہاتھوں گرفتاری کی تردید ‘‘جمس ٹائون فائونڈیشن‘‘ کے ایک تجزیہ نگار نے بھی کی ہے۔ ولادی میر فیلگن بورگ کا کہنا ہے کہ گیل روزن برگ تو کوبانی میں گئی ہی نہیں ہے، اس لیے اس کے داعش کے ہاتھوں گرفتاری کا امکان کیسے ہو سکتا ہے۔
پچیس ملین ڈالر کا فراڈ
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیل کی سابق خاتون فوجی اہلکار کی گرفتاری ایک معمہ بنی ہوئی ہے اور اس کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ میں بھی مسلسل خبریں شائع ہورہی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے گیل روزن کے فیس بک کے صفحے کا مطالعہ کیا اور اس کی کچھ تصاویر بھی وہاں سے ڈائوں لوڈ کی ہیں۔ اس نے اپنے فیس بک کی ٹائم لائن پرلکھا ہے کہ وہ جس علاقے میں موجود ہے وہاں 08 دسمبر کو انٹرنیٹ کی سروس ختم ہو جائے گی تاہم اس نے علاقے کا نام نہیں بتایا۔ اس سے یہ شبہ ہو رہا ہے کہ وہ داعش ہی کے کنٹرول میں ہے لیکن اسے محدود پیمانے پر فیس بک کے استعمال کی اجازت بھی دی گئی تھی۔
برطانوی اخبار ‘‘ٹائمز‘‘ نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ حال ہی میں ایک امریکی جنگجو کردوں کے ساتھ داعش کے خلاف جنگ میں شامل ہوا ہے تاہم اخبار نے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ تاہم اخبار نے یہ ضرور بتایا کہ جس امریکی جنگجو کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ کردوں میں شامل ہوا ہے اس پر امریکا اور کینیڈا کے معمر افراد سے 25 ملین ڈالر کی رقم فراڈ سے وصول کرنے کا الزام ہے۔ رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی کے اس غیر معمولی اسکینڈل میں اسرائیل کے 11 یہودی بھی شامل ہیں جن میں کینیڈین نژاد شہری بھی شامل ہے۔
گیل روزن نے اپنے فیس بک کے خصوصی صفحے کی پروفائل میں عراق کے صوبہ کردستان کے اربیل ہوائی اڈے کی تصویر لگائی ہے۔ اس کے فالورز کی تعداد 2000 ہے جبکہ اس کے اکائونٹ میں مجموعی طورپر 333 تصاویر میں سے 180 اسرائیل کی دکھائی دیتی ہیں۔
-
کوبانی: حملوں ،جھڑپوں میں داعش کے 50 جنگجو ہلاک
شام کے سرحدی شہر کوبانی (عین العرب) میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کرد جنگجوؤں کے ...
مشرق وسطی -
داعش کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال جائز ہے: پوپ
مسلمان داعش کے خلاف بہادری سے آواز اٹھائیں: پوپ کا مطالبہ
بين الاقوامى -
داعش کی نئی ایجاد، قرآن پاک بھی بم بنا دیے گئے
عراق اور شام میں دہشت گردی اور اسلام ک نام پر نہایت بے رحمی سے انسانوں کے قتل عام ...
ایڈیٹر کی پسند