.

سعودی وزیردفاع کی قیادت میں ''فیصلہ کن طوفان''

نائب ولی عہد اور وزیرداخلہ حوثی مخالف مہم کی نگرانی کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف ''آپریشن:فیصلہ کن طوفان'' کی قیادت کررہے ہیں۔مملکت کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن نایف اس فضائی مہم کی نگرانی کررہے ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں یہ فوجی مہم یمن میں حوثی شیعہ جنگجوؤں کی بغاوت کو فرو کرنے اور ملک کے منتخب اور قانونی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے دفاع کے لیے شروع کی گئی ہے۔

سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن کے سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی صالح کو خبردار کیا ہے کہ وہ عدن کی جانب پیش قدمی سے باز رہیں۔

واضح رہے کہ حوثی شیعہ باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے پورے یمن پر قبضے کے لیے اتحاد قائم کر لیا ہے اور یمن کی سرکاری سکیورٹی فورسز بھی دو حصوں میں بٹ چکی ہیں۔سابق صدر کے وفادار حوثیوں کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ صدر منصور ہادی کے وفادار ان کے مدمقابل ہیں اور انھیں جنوبی اور وسطی یمن سے تعلق رکھنے والے مسلح قبائل کی حمایت حاصل ہے۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا اور اب وہ جنوبی شہر عدن کی جانب بڑھ رہے تھے۔ان کی اس یورش کے بعد سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ان کے خلاف جنگی مہم کا حکم دیا ہے۔سعودی عرب کے علاوہ اس آپریشن میں چار خلیجی عرب ممالک متحدہ عرب امارات ،کویت ،قطر ،بحرین شریک ہیں۔ان کے علاوہ اردن ،سوڈان ،مصر ،مراکش اور پاکستان نے بھی اس مہم کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

سعودی عرب کے ایک سو لڑاکا طیارے حوثیوں کے خلاف اس جنگی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کے علاوہ ڈیڑھ سو فوجی بھی اس میں شریک ہیں اور انھیں یمن کے ساتھ واقع سعودی عرب کے سرحدی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔سعودی عرب اور مصر کی بحریہ بھی آپریشن فیصلہ کن طوفان میں حصہ لے رہی ہے۔