پیغمبراسلام پر ایرانی فلم ،سعودی مفتیِ اعظم کی مذمت

فلم میں اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے ایران میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ''محمد'' کے نام سے بنائی گئی فلم کو ایک ناپاک جسارت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایران میں یہ سب سے زیادہ لاگت سے بننے والی فلم ہے اور اس کی گذشتہ ہفتے سے ملک میں نمائش جاری ہے۔اس میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار براہِ راست دکھایا گیا ہے جبکہ سُنی اسلام میں اس کی ممانعت ہے اور اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔

مفتیِ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اخبار الحیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک توہین آمیز جسارت ہے اور اس میں اسلام کو مسخ کیا گیا ہے۔اس میں پیغمبراسلام کی توہین کی گئی ہے اور ان کے مقام ومرتبے کو گھٹانے کی بھی مکروہ کوشش کی گئی ہے۔

مکہ مکرمہ میں قائم موتمرعالم اسلامی نے بھی گذشتہ ہفتے اس ایرانی فلم کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس انداز میں پیغمبر اسلام کا کردار دکھایا جانا ممنوع ہے۔

موتمرعالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل عبداللہ الترکی نے تہران حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اس فلم کو سینماؤں میں دکھانے پر پابندی عاید کرے۔انھوں نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فلم کا بائیکاٹ کردیں۔

اس فلم کا دورانیہ ایک سو اکہتر منٹ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ماجد ماجدی ہیں اور اس پر قریباً چار کروڑ ڈالرز (تین کروڑ ساٹھ لاکھ یورو) لاگت آئی ہے۔اس میں سے کچھ رقم ایرانی حکومت نے دی ہے اور یہ سات سال سے زیادہ عرصے میں مکمل ہوئی ہے۔ماجدی کا کہنا ہے کہ ان کے اس کام کا مقصد اسلام کے حقیقی امیج کو اجاگر کرنا ہے جس کو ان کے بہ قول انتہا پسندوں نے داغدار کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں