روس نے شام میں ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے؟

روسی افواج شامی حکومت کی مداخلت کے بغیر اپنے امور کی منتظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی حکومت کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں غیرملکی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔ تاہم روس کے ساتھ دستخط کردہ خفیہ معاہدے میں شامل مراعات اور دستبرداریوں نے اس دعوے کا پول کھول دیا ہے۔

معاہدے کے تحت روسی افواج غیرمعینہ مدت تک شام میں رہ سکتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ روسی افواج نے اپنے انتظامی امور کی نگرانی، شامی حکومت کی مداخلت کے بغیر، خود اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ معاہدے سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ روسی افواج کے کسی اہل کار کی گرفتاری یا اس سے پوچھ گچھ عمل میں نہیں لائی جاسکے گی۔

اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ شامی بحران میں اس کی مداخلت بشار الاسد کی حکومت کی درخواست پر تھی، جس نے 4 برس کے بعد محسوس کیا کہ اسے اپوزیشن گروپوں کے سامنے خسارے کا سامنا ہے۔ تاہم اب ماسکو حکومت کی جانب سے بشار حکومت کے ساتھ ایسے معاہدے کا انکشاف جس میں غیر معینہ مدت کے لیے روسی فوجی مداخلت کا تقاضا ہو، کسی دھماکا خیز اعلان سے کم نہیں۔

روسی ذرائع کے مطابق، روسی افواج آزادانہ نقل و حرکت اور بشار حکومت کے اہل کاروں کی مداخلت کے بغیر اپنے امور کے انتظام سے لطف اندوز ہوگی۔ اس کے علاوہ شامی حکومت کے جنگجوؤں کو پیشگی روسی اجازت کے بغیر ان مقامات میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں ہوگا جہاں روسی فوجی موجود ہوں گے۔ جب کہ معاہدے کی رُو سے روسی افواج کو شامی حکومت کی کسی مداخلت کے بغیر شامی سرزمین میں ہر جگہ آنے جانے کی اجازت ہوگی۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے دمشق اور ماسکو کے درمیان خفیہ معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کوئی ملک ایٹمی طاقت ہو اور بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہو اور وہ جغرافیائی طور پر دور واقع کسی ملک میں اپنی افواج بھیجنا چاہتا ہو، تو سب سے پہلے یہ ملک جو کام کرتا ہے وہ یہ کہ اپنی شرائط لاگو کرتا ہے۔

واضح رہے کہ سات صفحوں پر مشتمل اس معاہدے پر گزشتہ سال 26 اگست کو دستخط کیے گئے۔

ساتھ ہی یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں شامی حکومت کے صدر بشار الاسد کا ماسکو کے دورے کا مقصد، اپنی جانب سے اس معاہدے پر کاربند رہنے کی تصدیق کرنا تھا جس نے مبصرین کے نزدیک شامی صدر کو مکمل طور پر ڈھیر ہوجانے سے بچالیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size