خانہ کعبہ کے دروازے سال میں دو بار کیوں کھلتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کون ہے جو اللہ کے گھر یعنی "خانہ کعبہ" کے اندر داخل نہیں ہونا چاہتا ، وہ گھر جس کے گرد پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان طواف کرتے ہیں۔ ماضی میں کعبے کا دروازہ ہر ماہ دو سے تین مرتبہ کھولا جاتا تھا تاکہ تمام لوگوں کو داخلے کا موقع مل سکے۔ تاہم آج یہ پورے سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ یکم شعبان کو غسل کعبہ کے موقع پر اور دوسری مرتبہ یکم ذوالحجہ کو اس کے غسل اور نئے غلاف کی تبدیلی کے موقع پر۔ علاوہ ازیں یہ خادم حرمین شریفین کی اجازت سے مملکت کے مہمانوں کے لیے بھی کھولا جاتا ہے۔

بیت اللہ کو عام داخلے کے لیے اب نہیں کھولا جاتا ہے۔ اس کی وجہ مردوں اور عورتوں کے بے پناہ رش کی وجہ سے تکلیف اور نقصان پہنچنے سے بچانا ہے۔ بالخصوص جب کہ حالیہ چند سالوں میں حجاج کرام اور معتمرین کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسی صورت حال میں کعبے کے متولی اور سکیورٹی اہل کاروں کے لیے بیت اللہ کے تقدس کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

حرمین شریفین سے متعلق معلومات کی ویب سائٹ "گیٹ وے آف الحرمين الشريفين" نے مراکش کے معروف فقیہہ ، شاعر اور سفرناموں کے مصنف ابو سالم العیاشی )متوفی 1090 ھجری( کا قول بیان کیا ہے۔ انہوں نے 1059هـ ، 1064هـ اور 1072هـ میں یعنی تین مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔ العیاشی کے مطابق بیت اللہ سال میں 7 مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں "بیت اللہ کو قربانی یعنی عید الاضحی کے دن ، عاشوراء کے دن ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے دن کے علاوہ شعبان ، رمضان اور ذی القعدہ میں کھولا جاتا ہے۔ مزید برآں قربانی کے دن کے علاوہ بھی ایک روز صبح سے لے کر زوال تک کے وقت کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دوران کوئی بھی شخص کعبے میں داخل ہوسکتا ہے"-

بیت اللہ کے اعلی متولی ڈاکٹر صالح زين العابدين الشيبی کعبے کا دروازہ کھولنے کی کارروائی کرتے ہیں جہاں متولی کی جانب سے دو افراد دروازہ کھولتے ہیں۔ ایک شخص چابی داخل کرتا ہے اور دوسرا ُقفل کو کھینچتا ہے۔ یہ ُقفل تکون شکل میں ہوتا ہے۔ کعبے کے دروازے کی اونچائی 2.4 میٹر جب کہ چوڑائی 1.7 میٹر ہے۔ یہ دروازہ خالص سونے سے بنا ہوتا ہے۔

بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کا دروازہ اپنی ابتدا سے لے کر آج تک تاریخی طور پر سربستہ رازوں کا مجموعہ رہا ہے۔ اس کی اولین صورت کیا تھی اور سب سے پہلے تعمیر کرنے والے کون تھے ، اس بارے میں کوئی معلومات یا شواہد موجود نہیں۔ تاہم طویل عرصے سے کعبے کے دو دروازوں کا ہونا مصدقہ طور پر ثابت ہے.

کعبے کے دروازے کی دیکھ بھال ہمیشہ سے عالم اسلام کے خلفاء اور فرماں رواؤں کا مطمع نظر رہی ہے۔ وہ اللہ عزوجل کے اسماء حسنی کے نیچے اپنے نام تحریر کرواتے اور اس پر سونے چاندی کے استعمال میں کسی قسم کے بخل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ البتہ کعبے کے دروازے کی کنجی آل شیبہ خاندان کے پاس ہی محفوظ رہتی ہے۔ اس لیے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے نام وصیت کے مطابق بیت اللہ کے متولی ہیں۔ ان میں اعلی متولی کے پاس کعبے اور مقام ابراہیم کی کنجیاں ہوتی ہیں۔ بیت اللہ یعنی کعبے کا دروازہ دنیا کے 1.5 ارب مسلمانوں کی نظروں میں اپنے پورے تقدس کے ساتھ چمکتا ہے۔ اسی طرح روئے زمین پر بسنے والے بقیہ لوگوں کی نظر میں بھی اپنی صنعت کے صدق اور حسن و جمال کا لوہا منواتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں