ایردوآن: شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے ترکیہ کو بھی خطرہ ہے

"اسرائیل کو روکنا پوری انسانیت کا فرض ہے": ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملے اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ترکیہ کو بھی ان سے خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل کی "جارحیت" پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور اسے روکنا چاہیے۔

نیٹو کا رکن ترکیہ ایران، غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں کا سخت ترین ناقد رہا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اسرائیل علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارت روک رکھی ہے اور بین الاقوامی عدالتوں میں اس کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایردوآن نے پارلیمنٹ میں اپنی حکمران اے کے پارٹی کے قانون سازوں کو بتایا، "نیتن یاہو اور ان کے قاتل نیٹ ورک کے لبنان اور شام پر حملوں نے مسئلے کو ایسی نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اس سے ترکیہ کو بھی خطرہ لاحق ہے۔"

ایردوآن نے یہ بھی کہا، اسرائیل قبرص کے نسلی طور پر منقسم جزیرے پر "تنازعہ کی آگ" بھڑکا کر افریقی ممالک اور بحیرۂ روم کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایک "خاموش اور مکارانہ کوشش" کی قیادت کر رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کیے بغیر کہا، "یہ چھوٹے ادارے جن کے عزائم ان کے حجم سے کہیں بڑھ کر ہیں، اسرائیل کی شرارتوں میں شریک ہو چکے ہیں۔ یہ صیہونی حکومت کے ذیلی ٹھیکیداروں کا کردار ادا کرتے ہوئے مشرقی بحیرۂ روم میں بعض غیر حقیقی ارادوں کے تعاقب میں ہیں۔"

نیز کہا، "کسی کو بھی مہم جوئی نہیں کرنی چاہیے۔ میں چاہتا ہوں سب کو معلوم ہو جائے کہ اگر مشرقی بحیرۂ روم میں ترکیہ اور ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تو ہمارا جواب بہت واضح اور بہت زوردار ہو گا۔"

ایران کے ہمسایہ ملک ترکی نے ایران جنگ کے لیے اسرائیل کی ’اشتعال انگیزیوں‘ کو موردِ الزام قرار دیا ہے۔

ایردوآن نے بدھ کے روز عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزید واضح مؤقف اختیار کریں اور کہا ہے کہ "عالمی برادری کی خاموشی" سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا، "اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کی حدود میں واپس لانا نہ صرف بعض ممالک بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ فرض بن گیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں