ایردوآن: شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے ترکیہ کو بھی خطرہ ہے
"اسرائیل کو روکنا پوری انسانیت کا فرض ہے": ترک صدر
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملے اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ترکیہ کو بھی ان سے خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل کی "جارحیت" پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور اسے روکنا چاہیے۔
نیٹو کا رکن ترکیہ ایران، غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں کا سخت ترین ناقد رہا ہے اور اس کا خیال ہے کہ اسرائیل علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارت روک رکھی ہے اور بین الاقوامی عدالتوں میں اس کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایردوآن نے پارلیمنٹ میں اپنی حکمران اے کے پارٹی کے قانون سازوں کو بتایا، "نیتن یاہو اور ان کے قاتل نیٹ ورک کے لبنان اور شام پر حملوں نے مسئلے کو ایسی نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اس سے ترکیہ کو بھی خطرہ لاحق ہے۔"
ایردوآن نے یہ بھی کہا، اسرائیل قبرص کے نسلی طور پر منقسم جزیرے پر "تنازعہ کی آگ" بھڑکا کر افریقی ممالک اور بحیرۂ روم کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایک "خاموش اور مکارانہ کوشش" کی قیادت کر رہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کیے بغیر کہا، "یہ چھوٹے ادارے جن کے عزائم ان کے حجم سے کہیں بڑھ کر ہیں، اسرائیل کی شرارتوں میں شریک ہو چکے ہیں۔ یہ صیہونی حکومت کے ذیلی ٹھیکیداروں کا کردار ادا کرتے ہوئے مشرقی بحیرۂ روم میں بعض غیر حقیقی ارادوں کے تعاقب میں ہیں۔"
نیز کہا، "کسی کو بھی مہم جوئی نہیں کرنی چاہیے۔ میں چاہتا ہوں سب کو معلوم ہو جائے کہ اگر مشرقی بحیرۂ روم میں ترکیہ اور ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تو ہمارا جواب بہت واضح اور بہت زوردار ہو گا۔"
ایران کے ہمسایہ ملک ترکی نے ایران جنگ کے لیے اسرائیل کی ’اشتعال انگیزیوں‘ کو موردِ الزام قرار دیا ہے۔
ایردوآن نے بدھ کے روز عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزید واضح مؤقف اختیار کریں اور کہا ہے کہ "عالمی برادری کی خاموشی" سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا، "اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کی حدود میں واپس لانا نہ صرف بعض ممالک بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ فرض بن گیا ہے۔"
-
سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ریلوے نیٹ ورک کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
تجارت کے فروغ اور خطے کے ممالک کے درمیان پائیدار زمینی نقل و حمل کے نظام کو بہتر ...
بين الاقوامى -
غزہ مذاکرات: تعطل ختم کرنے کے لیے مصر، قطر اور ترکیہ کی مشترکہ کوششیں
غزہ کی پٹی میں مذاکرات کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے علاقائی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ...
مشرق وسطی -
ایران مذاکرات میں شامل ہے، لیکن میدانِ جنگ نہیں چھوڑے گا : پزشکیان
ایرانی صدر نے کہا کہ "دفاع اور سفارت کاری قومی طاقت کے دو ستون ہیں".
مشرق وسطی