ایران : مُردوں کے غسل کی "خودکار مشین" باعث تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چند سال قبل ایران کے شہر مشہد میں مُردوں کو غسل دینے کے لیے خود کار مشین تیار کی گئی۔ اس امر نے مذہبی اور سماجی حلقوں میں تنازع پیدا کر دیا۔ ابتدا میں یہ کہا گیا کہ مذکورہ مشین چین کی تیار کردہ ہے۔ اس پر ایرانی معاشرے کی جانب سے مردوں کو غیر مسلموں کی تیار کردہ مشین میں رکھنے کو وسیع پیمانے پر مسترد کیا گیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے مذہبی مراجع کی جانب سے اس طرح کی مشین کے استعمال کو مسترد کرنے کی تصدیق کی تھی تاہم انکار کرنے والی کسی بھی شخصیت کا نام نہیں بتایا گیا۔ اسی دوران دیگر میڈیا نے شرعی شرائط کا خیال رکھتے ہوئے مذکورہ مشین کے استعمال کی حمایت سے متعلق مذہبی مراجع کے فتاوی اور ان کی آراء کو پیش کیا۔

ایرانی خبررساں ایجنسی مہر نے اس مشین کے چین میں تیار کیے جانے کی تردید کی اور واضح کیا کہ یہ ایک مقامی منصوبہ ہے جس کے تحت غسل کی مشین ایران کے شہر مشہد میں تیار کی جا رہی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی نے مشہد شہر کی بلدیہ کے معاون برائے امور قبرستان "محمد بذیرا" کے حوالے سے بتایا ہے کہ " ایران میں فوتگی کی سب سے زیادہ تعداد کے لحاظ سے مشہد کا تہران کے بعد دوسرا نمبر ہے۔ اس وجہ سے مذہبی مراجع سے فتوے کے حصول کے بعد مُردوں کو غسل دینے والی مشین تیار کی گئی"۔

"شيعہ اون لائن" ویب سائٹ کے مطابق شیعہ مذہبی مراجع اس طرح کی مشین کے استعمال کی اجازت بعض شرائط کا خیال رکھنے کے ساتھ دیتے ہیں۔ ویب سائٹ نے بعض شیعہ مراجع کے جوابات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان میں السيستانی ، مبشر كاشانی ، مكارم شيرازی ، جرجانی اور خامنہ ای شامل ہیں۔ ان تمام شخصیات نے باور کرایا ہے کہ " اگر اس کا استعمال عملی رسائل (عبادات اور معاملات سے متعلق فقہی فتاوی کی کتاب) کے متن کے مطابق ہے تو پھر کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے"۔

مذکورہ شخصیات نے اپنے علاحدہ جوابوں میں کہا ہے کہ مشین چلانے والے شخص کو چاہیے کہ وہ مشین کا بٹن دبانے سے قبل خود غسل کرے۔ ایک اور شخصیت نے کہا ہے کہ مشین سے دیے جانے والے غسل میں ترتیب کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

ایران کے دارالحکومت تہران کی بلدیہ کے زیرانتظام ایک ویب سائٹ نے غسل دینے والی مشین کے کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق "اس مشین میں ایک گھنٹے کے اندر تین مُردوں کو غسل دیا جا سکتا ہے گویا کہ ایک مُردے کے غسل میں تقریبا 20 منٹ کا وقت لگتا ہے۔ بعض مشینوں میں یہ تعداد ایک گھنٹے میں دس مُردوں تک بھی ہوسکتی ہے۔ یہ مشین مُردے کو گھما کر غسل دیتی ہے۔ اس دوران ہاتھ سے دیے جانے والے غسل کے تمام مراحل کا خیال رکھا جاتا ہے جس میں بیری اور کافور کا استعمال شامل ہے"۔

تاہم نظر یہ آرہا ہے کہ ایرانی معاشرے نے اس جدید مظہر کو آسانی سے قبول نہیں کیا۔ اس لیے کہ میت کے گھر والے اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کا مُردہ دوسرے عالم کے سفر میں منتقل ہو تو مذہبی نظریات کے تحت اس کا غسل اور تجہیز و تکفین مشین کے ذریعے نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں سے انجام پائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں