.

ایران کی سائبر آرمی سے متعلق "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی خصوصی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" اپنے قارئین کے لیے ایرانی سائبر آرمی اور مختلف ملکوں اور اداروں کے خلاف اس کی سراغ رساں سرگرمیوں کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس آرمی کے کمانڈر محمد حسین تاجک کی ہلاکت کی تفصیلات بھی منظر عام پر لائی جا رہی ہیں۔ تاجک کو ایران کے اندر اپوزیشن کی سبز تحریک کے لیے جاسوسی اور معلومات اِفشا کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے منصب سے برطرف بھی کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ برس ستمبر میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ایک خصوصی رپورٹ میں ایرانی سائبر آرمی کے سابق سربراہ محمد حسين تاجک کی ہلاکت کا انکشاف کیا تھا۔ محمد حسین کا خاتمہ گزشتہ برس جولائی میں اُس کے والد جو خود ایرانی انٹیلی جنس کی ایک اہم شخصیت شمار ہوتے ہیں.. اُن کے زیر نگرانی ایک کارروائی میں کیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیلات تاجک کے ایک قریبی دوست اور ایرانی صحافی روح اللہ زم کی زبانی سامنے آئیں۔ روح اللہ ایران میں سبز تحریک کے نزدیک ایک اصلاح پسند کارکن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

روح اللہ کو بھی بد عنوانی اسکینڈلوں اور ایرانی سکیورٹی اداروں کے بارے میں اندر کی خبریں نشر کرنے اور عرب ممالک میں پاسداران انقلاب کی مداخلتوں کو منظر عام پر لانے کی پاداش میں مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ ایک تازہ اور خصوصی انٹرویو میں روح اللہ زم نے ایرانی سائبر آرمی کی سرگرمیوں اور اس کے سابق سربراہ کے خاتمے کی وجوہات کے علاوہ سرحد پار ایرانی انٹیلی جنس کی بعض سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی۔

روح اللہ زم کے مطابق وہ نہیں سمجھتے کہ محمد حسین تاجک کو ہلاک کرنے کا بنیادی سبب معلومات کا کو اِفشا کرنا ہے۔ انٹرنیٹ پر ایک برس کی دوستی کے بعد تاجک نے زم سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجک کے ساتھ مل کر کام کرے۔ تاجک اپنے طور پر زم کو بعض اہم خبروں اور پیش رفت سے مطلع کرتا رہتا تھا۔ تاجک نے زم کو یہ بھی کہہ رکھا تھا کہ وہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ریکارڈ کرے اور مستقبل میں اگر تاجک کو کچھ ہو جاتا ہے تو اس ریکارڈنگ کو استعمال میں لائے۔ ایرانی حکام نے اتنی زیادہ خفیہ معلومات اور رازوں کو اپنے سینے میں رکھنے والے تاجک کو کسی طور ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔ محمد حسین تاجک نے زم کو ہدایت دے رکھی تھی کہ اگر اُس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے تو زم سب سے پہلے اس کی موت کی خبر "العربیہ" کو دے۔ تاجک اکثر کہا کرتا تھا کہ ایرانی انٹیلی جنس کے سامنے میڈیا کے دو ادارے اہم ترین ہیں جن پر وہ مسلسل کڑی نظر رکھتا ہے.. ان میں ایک تو "العربیہ" اور دوسرا "بی بی سی فارسی" ہے۔

روح اللہ زم نے بتایا کہ تاجک 2011 میں قائم کیے جانے والے مرکز "خيبر" کا نائب تھا۔ وزارت دفاع ، وزارت انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب کے الکٹرونک تکنیکی شعبوں کے تمام عناصر کو "خيبر" کے ہیڈ کوارٹر میں ضم کر دیا گیا تھا۔

یہ "خيبر" مرکز مخلتف ممالک کے خلاف سائبر حملے کرتا ہے اور یہ ایران میں تمام سکیورٹی اداروں کے لیے یکجا کیا گیا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں ان اداروں کے تمام عناصر کا ڈیٹا موجود ہے۔

روح اللہ زم نے ایرانی وزارت انٹیلی جنس ، سائبر آرمی اور ان سے ملتے جلتے اداروں کی جانب سے سائبر کارروائیوں کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی۔ زم کے مطابق ان اداروں نے امریکا کے خلاف متعدد سائبر حملے کیے۔ ان میں ایک امریکی ڈیم ، کئی اہم امریکی بینکوں اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ شامل ہیں۔ ان ایرانی اداروں نے سعودی بینکوں اور مملکت میں شماریات کے اداروں پر متعدد سائبر حملے کیے ، ترکی میں 12 گھنٹوں کے لیے بجلی منقطع کر دی اور اسرائیلی مصنوعی سیاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ ایسے سرکاری دستاویزات موجود ہیں جن سے ان حملوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ تمام دستاویزات کو زم نے محفوظ جگہ رکھا ہوا ہے۔ ایران نے زم کی زندگی کا چراغ گُل کیا تو ان دستاویزات کا کوڈ کھل جائے گا اور یہ اندورون و بیرون ملک میڈیا کو ارسال ہو جائیں گے۔ زندہ رہنے کی صورت میں زم ان کو خود ایک کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زم کے مطابق ظاہری طور پر تو خیبر مرکز کے سربراہ کا نائب تھا تاہم درحقیقت مرکز کو تاجک ہی چلا رہا تھا اور عملی طور پر اس ایرانی سائبر آرمی کا سربراہ بھی تاجک ہی تھا۔

روح اللہ زم نے بتایا کہ محمد حسین تاجک کا باپ "حاجی ولی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت کے سینئر ترین ارکان میں سے ہے۔ ولی وزارت انٹیلی جنس کی ایک تین یا چار رکنی ٹیم میں شامل رہا جو بیرون ملک کارروائیوں کے حلقہ نمبر 15 کے نام سے جانی جاتی ہے۔ گزشتہ صدی میں 80ء کی دہائی میں ولی اور اس کے بعض ساتھیوں نے ایک عرب ملک کا سفر کیا اور وہاں تین بڑی عسکریت پسند شخصیات کے ساتھ مل کر ایرانی انٹیلی جنس کے مفاد میں ایک رابطہ نیٹ ورک قائم کیا۔ یہ شخصیات مصر اور پاکستان کی جامعات سے فارغ التحصیل ہوئی تھیں جو بعد میں القاعدہ تنظیم کی بانی شخصیات بنیں۔ ان میں ڈاکٹر ایمن الظواہری بھی شامل ہیں۔

روح اللہ زم کے مطابق محمد حسین تاجک کی موت کے بعد اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تاہم انٹیلی جنس نے پوسٹ مارٹم سے روک دیا اور اعلان کردیا کہ تاجک کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ یہ واضح طور پر جھوٹ تھا کیوں کہ تاجک کی موت سے 3 گھنٹے قبل زم کی تاجک سے بات چیت ہوئی تھی.. اور تاجک نے بتایا تھا کہ تہران کے وقت کے مطابق دوپہر دو بجے اس کا باپ ایرانی انٹیلی جنس کے داخلہ امور کے ایک ذمے دار کے ساتھ تاجک کے خلاف عدالتی کارروائی پر گفتگو کے لیے آ رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ تاجک کی موت سہ پہر تین بجے دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی جب کہ تاجک کسی طرح کے بھی دل کے مرض میں مبتلا نہیں تھا۔ البتہ ایرانی حکام کی حراست میں شدید نوعیت کے نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کی وجہ سے تاجک روزانہ 12 سے 15 نیند اور سکون آور گولیاں کھاتا تھا۔ تاجک کی تدفین کی وڈیو زم کے پاس موجود ہے جس میں تاجک کے ماں باپ کے سوا کوئی بھائی یا عزیز شریک نہ ہوا۔

روح اللہ زم کے مطابق ایرانی میڈیا میں اس طرح کی خاموش ہلاکتوں کی خبریں نہیں آتی ہیں۔ ذاتی طور پر ابتدا میں زم تاجک کی ہلاکت کو ایرانی انٹیلی جنس یا پاسداران انقلاب کا ڈرامہ سمجھ رہا تھا۔ تاجک اسرائیل کی ٹارگٹ لِسٹ میں شامل تھا اور اس کو اسرائیل کی جانب سے تحریری دھمکی بھی موصول ہوئی تھی۔ یہ تمام امور زم کے ذہن میں شکوک پیدا کر رہے تھے تاہم تقریبا تین ماہ مختلف ذرائع سے تصدیق کے بعد زم نے تاجک کی موت کی خبر اِفشا کر دی۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے خبر نشر کرنے کے بعد بھی ایرانی حکام کی جانب سے اس کی کوئی تردید نہیں کی گئی۔ تاجک کی موت کے بعد ایک اعلی ایرانی اہل کار نے بالواسطہ روح اللہ سے رابطہ کر کے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام دستاویزات کو اس کے حوالے کر دے تاکہ وہ ان معاملات کے حوالے سے پیش رفت کر سکے۔ تاہم روح اللہ نے اس کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ وہ ان دستاویزات کو "العربیہ" اور یا پھر "وائس آف امریکا" کی فارسی سروس کو دے گا۔

روح اللہ زم نے بتایا کہ گزشتہ برس شعبان کی پندرہویں شب کے موقع پر تاجک کو ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے گھر پر بُلایا گیا جس پر تاجک بہت پر امید تھا کہ مرشد کی طرف سے اس کو معافی مل جائے گی۔ تاہم جولائی کے اوائل میں وزارت انٹیلی جنس کے داخلی امور کے شعبے نے اس کی معافی کو مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ تاجک عدالت کے سامے پیش ہو کر اپنے مقدمے کے پراسرار پہلوؤں کو واضح کرے۔ عدالت کی سماعت سے 5 روز قبل تاجک کو مشرقی تہران میں اس کے گھر میں موت کی نیند سلا دیا گیا۔

روح اللہ کا کہنا تھا کہ تاجک کے لبنانی تنظیم "حزب الله" کی قیادت کے ساتھ انتہائی مضبوط تعلقات تھے اور وہ حسن نصر اللہ کا بہت احترام کرتا تھا۔ تاجک ایرانی دہشت گرد اور قدس فورس کے کمانڈر قاسلم سلیمانی کے بیٹے کا دوست تھا۔ تاجک نے کئی مرتبہ سلیمانی سے اس کے گھر پر ملاقات کی تاہم یہ سب بھی اس کو موت سے نہیں بچا سکا۔زم کے مطابق ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے میں چھوٹی سی غلطی کو بھی معاف کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی اہل کار کو اعلی ذمے داران یا اس اہل کار کے ساتھیوں کی جانب سے الزامات کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔ زم کا کہنا ہے کہ اگر تاجک اس کے قریب نہ آتا تو اس کی موت کی خبر بھی پس پردہ رہ جاتی جس طرح کے دیگر مواقع پر ہوتا ہے۔ تاجک کا باپ اس کی ماں کو طلاق دے چکا تھا اور اس نے اپنی مطلقہ بیوی کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا کیوں کہ اس نے تاجک کی موت کے حوالے سے زبان کھولنے کی کوشش کی تھی۔

روح اللہ زم نے بتایا کہ تاجک کی موت کو میڈیا میں لانے سے قبل گزرے تین ماہ کے دوران ایران کے اندر سے 6 یا 7 سکیورٹی ذرائع نے زم کو معلومات پہنچائیں کہ ایرانی حکام کی جانب سے اسے اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں زم کو ایران کے ایک قریبی ملک سے اغوا کیا جانا تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں اسے یورپ میں ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس سلسلے میں داعش یا کسی اور شدت پسند تنظیم کے عناصر کو استعمال کیا جانا تھا۔ روح اللہ زم کو متعدد لڑکیوں کے ذریعے بھی موت کے جال میں پھنسانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ ہر بار چوکنا رہ کر قابو میں آنے سے بچ گیا۔

انٹرویو کے آخر میں روح اللہ نے کہا کہ وہ ایرانی نظام کو بے نقاب کرنے کے لیے کوشاں تمام عناصر کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔