.

کیفے کے چھوٹو سےشعلہ بیان وکیل تک سفر ، مصر ی صدارتی امیدوار خالد علی سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار خالد علی نے آیندہ سال ہونے والے صدارتی ا نتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔

وہ موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کے مد مقابل امیدوار ہوں گے۔ البتہ ابھی تک کوئی اور نمایاں صدارتی امیدوار سامنے نہیں آیا ہے۔خالد علی ذاتی محنت ،قابلیت اور صلاحیت کی بنا پر ملک کے سیاسی منظرنامے پر ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔ان کی زندگی ایک سیلف میڈ انسان کی محنت اورکامیابی کی داستان ہے۔

خالد علی 26 فروری 1972ء کو دقلیہ گورنری میں واقع ایک گاؤں میت یعیش میں پیدا ہوئے تھے۔وہ آٹھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس بڑے خاندان کی کفالت کے لیے وہ اوائل عمری ہی سے اپنے والد کا بوجھ بٹاتے رہے تھے۔

وہ اسکول کی تعلیم کے دوران میں چھٹیوں میں مختلف چھوٹے، بڑے کام کرتے رہتے تھے۔انھوں نے چاولوں کی پلے داری کی، بسکٹ بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کیا اور سفنکس نامی کافی شاپ میں ایک چھوٹو کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔انھوں نے مصر کی جامعہ ذقاذق سے 1994ء میں قانون میں گریجو ایشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔پھر وہ کچھ عرصہ ایک قانونی فرم میں بغیر تن خواہ کے کام کرتے رہے تھے۔ان کی 2002ء میں شادی ہوئی تھی۔ان ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔

خالد علی نے وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد مزدوروں کے حقوق اور سماجی انصاف کے علمبردار وکیل کے طور بہت جلد اپنی پہچان بنا لی تھی۔ انھوں نے 2010ء میں ایک انتظامی افسر کے خلاف اپنے ملازمین کے حقوق پامال کرنے پر مقدمہ جیتا تھا۔وہ سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے بھی سخت ناقد رہے تھے۔ وہ ان کے دور حکومت میں گرفتار کیے جانے والے سیاسی کارکنان کو چھڑانے کے لیے قانونی مدد ومشاورت فراہم کرتے تھے۔

انھوں نے سنہ 2011ء کے اوائل میں حسنی مبارک کی مطلق العنان حکمرانی کے خلاف عرب بہاریہ تحریک میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا اور انھیں اسی سال فروری میں غیر قانونی انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

لیکن خالد علی اور ان کے ہم نواؤں کی 25 جنوری 2011ء کو شروع کردہ تحریک کے نتیجے میں صرف 18 روز بعد حسنی مبارک کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوگیا تھا۔انھوں نے اس کے بعد 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ وہ سب سے کم عمر امیدوار تھے اور وہ کل تیرہ صدارتی امیدواروں میں ساتویں نمبر پر رہے تھے۔

اب وہ بائیں بازوں کے نظریات کی حامل ’’ روٹی اور آزادی پارٹی‘‘ کی قیادت کررہے ہیں۔اس جماعت کے آٹھ رہ نماؤں کو اپریل کے بعد سے گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال ، صدر السیسی کی توہین اور ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

خود خالد علی کے خلاف قاہرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے اور ان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد سے یہ قیاس آ رائیاں بھی جاری ہیں کہ آیا وہ صدارتی دوڑ میں حصہ لے سکیں گے یا عدالتی سزا ان کا راستہ روک دے گی۔

اس عدالت نے ستمبر میں انھیں ہاتھ سے نازیبا اشارے پر تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور ان کے اشارے کو غیر شائستہ قرار دیا تھا۔عدالت نے انھیں اپیل کی سماعت تک جیل سے باہر رہنے کے لیے ایک ہزار مصری پاؤنڈ ز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ خالد علی نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن عدالت اگر یہ فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو پھر وہ آیندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

مصر کے ایک تجزیہ کار عمرو ہاشم نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے خالد علی کے آیندہ صدارتی انتخابات میں نمایاں امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مصر میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار کو فوج کی حمایت و سرپرستی حاصل ہونی چاہیے اور اس کے بغیر وہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا ہے۔