.

لیبیا:قومی اتحاد کی حکومت ترکی کے اسلحہ اور بکتربند گاڑیوں سے طرابلس کا دفاع کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (حکومت الوفاق الوطنی ، جی این اے)کے تحت اتحادی فورسز کو ہفتے کے روز ترکی سے بھیجی گئی دسیوں بکتر بند گاڑیوں اور اسلحہ کی کھیپ وصول ہوگئی ہے۔اس کا مقصد مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر کمان لیبی قومی فوج (ایل این اے)کی دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے پیش قدمی کو روکنا ہے۔

قومی حکومت کی اتحادی فورسز نے ترکی کی ساختہ بی ایم سی کرپی بکتر بند گاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز کو اپنے فیس بُک صفحات پر پوسٹ کیا ہے۔ اس نے ایک صفحے پر لکھا ہے کہ ’’ جی این اے نے طرابلس کے دفاع کے لیے اپنی فورسز کو بکتر بند گاڑیوں ، اسلحہ اور معیاری ہتھیاروں کی کمک بہم پہنچائی ہے‘‘۔لیکن اس نے اس فوجی سازوسامان کی اصل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

مال بردار بحری جہاز ’’امازون‘‘ سے ہفتے کی دوپہر طرابلس کی ایک بندرگاہ پر یہ سامان اتارا گیا تھا۔اس جہاز پر مالدووا کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔یہ جہاز ترکی کی بحیرہ اسود کے کنارے واقع شمالی بندرگاہ سمسن سے روانہ ہوا تھا۔اس کھیپ میں ترکی کی ساختہ 40 بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔انھیں طرابلس کی بندرگاہ پر طاقتور ملیشیا کمانڈر صالح بادی کے زیر کمان فورسز نے وصول کیا تھا۔ان کے زیر کمان الصمود ملیشیا ماضی میں جی این اے اور لیبیا میں جاری بحران کے سیاسی حل کی مخالفت کرتی رہی ہے ۔اقوام متحدہ نے گذشتہ سال نومبر میں صالح بادی کا نام پابندیوں کا شکار افراد اور تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

گذشتہ روز ہی فیس بُک پر طرابلس سے تعلق رکھنے والی ایک سخت گیر ملیشیا مرسہ بریگیڈ نے مشین گنوں ، اسنائپر رائفلوں ، ٹینک شکن اور طیارہ شکن میزائلوں کی تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں۔وہ تازہ تازہ ڈبوں میں بند نظر آرہے تھے جس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی ترکی سے بھیجے گئے اسلحہ کی کھیپ میں شامل تھے اور انھیں طرابلس کے دفاع میں لڑنے والے جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

قبل ازیں گذشتہ ہفتے خلیفہ حفتر کی فورسز نے ترک ساختہ ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔اس کے بعد ان کی قومی فوج کی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ ترکی لیبیا میں اسلحہ بھیج رہا ہے۔اقوام متحدہ بھی ترکی کی جانب سے طرابلس کی ملیشیاؤں کے لیے حمایت کو جی این اے سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ فتحی باشاغا کے انقرہ کے اسی ماہ ایک طویل دورے کے بعد سے ملاحظہ کررہی ہے۔ان صاحب کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہی مرسہ بریگیڈ کے بانی ہیں۔وہ ترکی سے تاریخی وابستگی کے حامل سمجھنے جانے والے شہر مصراتہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں طرابلس میں جی این اے کی حکومت میں وزیراعظم فائز السراج سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔

اسی ماہ کے اوائل میں طرابلس حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ خلیفہ حفتر کی فوج کی چڑھائی کے دفاع کے لیے ترکی سے فوجی اور سول مدد کے حصول کی غرض سےبات چیت کررہی ہے۔اس کے ردعمل میں اقوام متحدہ کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ’’ اگر یہ درست ہے تو یہ انتہا ئی تشویش کا موجب ہے کیونکہ اس سے تشدد کو مہمیز ملے گی اور شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو گا‘‘۔

تاہم ترکی میں مقیم لیبیا کے ایک میڈیا کارکن کا کہنا ہے کہ جی این اے کا حملے سے دفاع کے لیے یہ اقدام درست اور باجواز ہے۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا فتحی باشاغا نے ترکی سے فوجی سازوسامان کی اس کھیپ کا بندوبست کیا ہے ؟ تو اس صحافی نے بتایا کہ ’’فتحی باشاغا ہی اس کے ذمے دار ہیں لیکن بعض دوسرے لوگ بھی اس عمل میں شامل تھے لیکن دنیا ان کے بارے میں لاعلم ہے‘‘۔

ترکی سے آنے والے فوجی آلات اور اسلحہ کو صالح بادی کے زیر کمان فورسز نے وصول کیا ہے حالانکہ وہ خود اقوام متحدہ کی سفری پابندیوں کی زد میں ہیں اور طرابلس میں تشدد کو مہمیز دینے کے الزام میں ان کے اثاثے بھی منجمد کیے جاچکے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بکتر بند گاڑیوں ایسے دفاعی فوجی آلات کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیے بغیر لیبیا میں لایا جاسکتا ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ نے بھی اس ضمن میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں صالح بادی پر پابندی کی وجوہ بیان کی گئی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ ’’ صالح بادی لیبیا میں بحران کے سیاسی حل کی راہ میں مسلسل اثر انداز ہوتے رہے ہیں ۔اگست اور ستمبر 2018ء میں طرابلس میں شدید جھڑپوں میں صالح بادی نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا اور ان جھڑپوں میں 120 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر عام شہری تھے‘‘۔

لیبی قومی فوج کے ترجمان کرنل احمد المسماری کے مطابق طرابلس میں عدم استحکام اور ترکی اور دوسرے ممالک کی حمایت یافتہ ملیشیا کے کردار کے پیش نظر ہی خلیفہ حفتر نے اپنی فورسز کو دارالحکومت کی جانب چڑھائی کا حکم دیا تھا۔حالیہ ہفتوں کے دوران میں طرابلس میں ملیشیاؤں کے کالعدم دہشت گرد گروپ انصار الشریعہ کے علاوہ القاعدہ اور داعش کے ساتھ روابط میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی ہفتے داعش کے جنگجوؤں نے لیبیا کے جنوب میں ایل این اے کی فورسز پر عقب سے حملہ کیا تھا ۔امریکا کے انٹیلی جنس جائزے کے مطابق یہ حملہ ایل این اے کی طرابلس پر قبضے کی کوشش کو روکنے کا ایک جنگی حربہ ہوسکتا ہے۔ متعدد ایسی اطلاعات سامنے آچکی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند جنگجو خلیفہ حفتر کے خلاف طرابلس کی ملیشیا ؤں کی دفاعی مہم میں شامل ہورہے ہیں۔ان میں سے بعض تو شام سے لوٹ رہے ہیں۔جمعہ کو یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ انصار الشریعہ اور بنغازی شوریٰ کونسل کا ایک رکن زیاد بلعم جی این اےکی طرف سے خلیفہ حفتر کی فورسز کے خلاف لڑتا ہوا زخمی ہوگیا ہے۔

لیبیا پر اقوام متحدہ نے اسلحہ کی خرید وفروخت پر پابندی عاید کررکھی ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق ترکی نے نیٹو اور امریکا کی قیادت کی جانب سے لیبیا کو ہتھیار بھیجنے کی مخالفت میں رائے پر اپنی حساسیت کا اظہار کیا تھا اور اب وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادی رعایتوں کے حصول کی کوشش کررہا ہے۔تاہم ایک سینیر مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ بظاہر ترکی کو امریکیوں کے ساتھ اپنے مؤقف کے پیش نظر اس معاملے کو بڑھاوا دینے میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے۔

خلیفہ حفتر گذشتہ ہفتے یورپی دارالحکومتوں کے دورے پر تھے۔ وہ طرابلس کو مفتوح بنانے کی مہم میں کامیابی کے لیے ان ممالک کی حمایت کے خواہاں ہیں۔ خلیفہ حفتر اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ہونے والی بات چیت سے باخبر لیبیا کے ایک سفارت کار کے مطابق خلیفہ حفتر کو واشنگٹن ڈی سی میں مدعو کیا جاسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے اس خود ساختہ فیلڈ مارشل کی کھل کر حمایت کررہا ہے لیکن اس نے ابھی تک ان کی مددو معاونت میں لیبیا میں کوئی فوجی مداخلت نہیں کی ہے۔