.

ترکی البغدادی کے بھائی جمعہ کی شام سے استنبول آزادانہ آمد ورفت کا سراغ کیوں نہیں لگا سکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے انٹیلی جنس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ داعش کے مقتول سربراہ ابوبکر البغدادی کے ایک بھائی جمعہ ان کے معتبر اور قابل اعتماد پیغام رساں کی حیثیت سے شام کے شمالی علاقے سے ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے کئی ماہ تک آزادانہ چکر لگاتے رہے تھے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ جمعہ اپنے بھائی کے سب سے بااعتماد پیغام رساں رہے تھے اورالبغدادی اپنی موت سے قبل ان ہی پر بھروسا کرتے ہوئے ان کے ہاتھ استنبول میں اپنے پیغامات اور مواد بھیجتے رہےتھے۔جمعہ اپنے بھائی کے یہ پیغامات یورپ کے سب سے بڑے شہر استنبول میں مقیم داعش کے ارکان یا کمانڈروں کوپہنچاتے تھے۔ یہ پیغامات گروپ کی شام ، ترکی اور عراق میں کارروائیوں سے متعلق ہوتے تھے۔

داعش کے خلیفہ کے بھائی کے شمالی شام سے استنبول کے سفروں کا عراقی انٹیلی جنس نے امریکی انٹیلی جنس کے تعاون سے پتاچلایا تھا۔عراقی انٹیلی جنس کے ایک سینیر افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’ہم البغدادی کے ڈاکیے کا کردار ادا کرنے والے ایک شخص کی مسلسل نگرانی کرتے رہے تھے۔وہ ترکی جاتا اور وہاں سے شام کے شمالی علاقے میں اکثر واپس آتا رہتا تھا۔یہ کوئی اور نہیں ابوبکر البغدادی کا سگا بھائی جمعہ تھا۔‘‘

جمعہ مقتول ابوبکر البغدادی کے تین بھائیوں میں سے ایک ہے۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور شام ہی میں کہیں روپوش ہے۔عراقی سکیورٹی فورسز کو سب سے پہلے 2018ء کے اختتام پر اس کا شام اور ترکی کے درمیان سرحد کو عبور کرتے ہوئے سراغ ملا تھا۔پھر وہ استنبول میں نمودار ہوا تھا۔

استنبول ہی میں داعش کے جنگجوؤں یا ہمدردوں نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر ایک نائٹ کلب، اس کے تاریخی سیاحتی مقام آیا صوفیہ کے نزدیک واقع سلطان احمد چوک اور اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اپنے بم حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

البغدادی کے بھائی کی ترکی میں موجودگی اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں پینٹاگان کے ترجمان اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سراغرسانی سے متعلق امور پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ ترکی کے ایوان صدر اور وزارت داخلہ نے بھی اس انکشاف پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔

جمعہ کا سراغ لگانے کے لیے کارروائی پر کام کرنے والے ایک عراقی انٹیلی جنس افسر کا کہناہے کہ البغدادی کے بھائی کو آخری مرتبہ اس سال اپریل میں استنبول میں دیکھا گیا تھا۔اس کے بعد ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں لوٹ آئے تھے اور اس کے کئی ماہ کے بعد ادلب ہی میں ان کے بھائی کی جائے قیام کا سراغ لگایا گیا تھا۔انھوں نے مزید بتایا کہ جمعہ کو شام سے ترکی اسمگل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ وہ آزادانہ شام سے ترکی آتے جاتے رہتے تھے۔

عراقی انٹیلی جنس کے افسر نے بتایاکہ ’’جمعہ ترکی میں ایک شخص سے اکثر اوقات ملاقاتیں کیا کرتے تھے اور ہم نے اس شخص سے اپنے ایک ایجنٹ کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔جمعہ نہ صرف اپنے بھائی کے پیغامات اور تھیلے اس شخص تک پہنچاتے تھے بلکہ وہ ان کے پیغامات عراق میں داعش کے کمانڈروں کو بھی پہنچایا کرتے تھے اور پھر ان کے پیغامات واپس اپنے بھائی کو لا کردیتے تھے۔‘‘

عراقی اور امریکی انٹیلی جنس نے البغدادی کے بھائی کا سراغ لگانے کے لیے پانچ ماہ تک مشترکہ کام کیا تھا۔تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ ادلب میں البغدادی کوان کے ٹھکانے پر استنبول سے لائے گئے پیکٹ ذاتی طور پر پہنچایا کرتے تھے یا کسی اور بااعتماد شخص کے حوالے کرتے تھے کیونکہ ان کا باغی گروپوں کی عمل داری میں صوبہ ادلب میں داخل ہونے کے بعد سراغ نہیں ملتا تھاکہ وہ کہاں روپوش ہوگئے ہیں۔

عراق کے انٹیلی جنس حکام کاکہنا ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ نہیں کہ آیا ترک حکام کو جمعہ کی نقل وحرکت کے بارے میں کچھ پتا تھا یا نہیں۔جمعہ کی کوئی تصویر دستیاب ہے اور نہ ان کی عمر ، شکل وشباہت ،نام کے دوسرے حصے کے بارے میں کچھ معلومات سامنے آئی ہیں۔ان کے موجودہ اتا پتا کے بارے میں بھی اٹیلی جنس حکام کو کچھ معلوم نہیں ہے۔

ترکی نے منگل کے روز البغدادی کی 65 سالہ بہن رسمیہ عواد کو شام کے سرحدی قصبے اعزاز کے نزدیک سے گرفتار کرنے کی کی اطلاع دی تھی لیکن ترکی کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ رسمیہ کا داعش کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں اور بظاہر ترکی نے ان کی گرفتاری کااعلان اس تنقید کے ردعمل میں کیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہا ہے۔اس گرفتاری سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ داعش مخالف کارروائی کررہا ہے۔

واضح رہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی 26 اکتوبر کو ادلب میں واقع ایک دوردراز سرحدی گاؤں بریشہ میں امریکا کے خصوصی دستوں کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے البغدادی کے ٹھکانے پر حملے کی تفصیلی وضاحت کی تھی اوروائٹ ہاؤس میں امریکا کے خصوصی دستوں کی اس کارروائی کو براہِ راست ملاحظہ کیا تھا۔

ان کے بہ قول امریکی فوجیوں نے البغدادی کو ایک سرنگ میں جالیا تھا۔وہ اس میں پھنس کررہ گئے تھے اور پھر انھوں نے اپنی خودکش جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس بم دھماکے میں ان کے ساتھ ان کے تین بچے بھی مارے گئے تھے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ داعش کا سربراہ ایک کتے کی موت مارا گیا تھا۔