.

ایرانی وزیر کا 20ڈالر کا خلانوردی سُوٹ ٹویٹر پر مذاق بن گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے انفارمیشن اور کمیونیکیشنزٹیکنالوجی کے وزیر محمد جواد آزری جہرومی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر خلانورد کے لباس میں ایک تصویر پوسٹ کی ہے اور اس کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے:’’فضانوردان کا لباس، روشن مستقبل‘‘۔

محمد جواد آزری جہرومی ایران کے سابق انٹیلی جنس افسر ہیں اور وہ صدر حسن روحانی کی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیر ہیں۔وہ خلانورد کے لباس میں تصویر تو ٹویٹر پر پوسٹ کر بیٹھے ہیں لیکن اس کے بعد انھیں کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے اور لوگوں نے خوب ان کا مضحکہ اڑایا ہے۔

ٹویٹر پر انھیں فالو کرنے والوں نے ان کے لباس کے تاروپود بکھیر دیے ہیں۔انھوں نے لکھا ہے کہ اس کی تو کل قیمت بیس ڈالر ہے اور یہ ہالووین کا لباس ہے۔اس کو امازون یا آن لائن کسی بھی پرچون فروش سے خرید کیا جا سکتا ہے۔

ان دونوں لباسوں میں معمولی سا فرق ہے اور اس کو واضح طور پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔وہ یہ کہ ایرانی سوٹ سے امریکا کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے لوگو اور بائیں کندھے سے امریکی پرچم کو ہٹا دیا گیا ہے۔اس کے بعد خالی جگہ پر ٹانکوں کے نشان واضح نظر آرہے ہیں اور ایرانی پرچم کو دائیں کندھے پر کاڑھ دیا گیا ہے۔

بعض لکھاریوں نے ایرانی وزیر کی اس لباس پرخوب بد اڑائی ہے۔رینڈ کارپوریشن میں ایسوسی ایٹ ماہر سیاسیات آریان طباطبائی نے یہ عبارت ٹویٹ کی ہے:’’جہرومی کی ٹویٹ سے تفریح طبع کا کچھ سامان مہیا ہوگیا ہے( یہ نااہلی اور ذاتی نمودونمائش کا حسین امتزاج ہے،یہ اسلامی جمہوریہ کا بہت سے ایشوز پر ٹریک ریکارڈ کا حقیقی خلاصہ ہے)۔۔‘‘

ایران کے انسانی حقوق کے ایک کارکن احمد بیتبی نے خلانوردوں کے دونوں مختلف لباسوں کی تصاویر پوسٹ کی ہیں اور ان کا موازنہ کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ وزیر جہرومی نے جو لباس پہن رکھا ہے، وہ ایک بچے کا لباس ہے اور یہ امازون پر 23 ڈالر میں دستیاب ہے۔

بی بی سی فارسی کے لیے امریکا کی کوریج کرنے والے صحافی ہادی نیلی نے لوگوں کو یاد کرایا ہے کہ امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک مرتبہ ’’جہرومی کو ایران کا ماکروں‘‘ قراردیا تھا۔

ایران نے سوموار کو اسی اختتام ہفتہ پرایک سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔اس نے گذشتہ سال دومرتبہ خلائی سیارے فضا میں بھیجے تھے لیکن اس کی یہ دونوں کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئی تھیں۔