عمرہ ومسجد نبوی کی زیارت پر پابندی مقاصد شریعت سے ہم آہنگ ہے: رابطہ عالم اسلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عرب لیگ اور رابطہ عالم اسلامی نے اسلامی دنیا کے علماء، دانشوروں، تنظیموں، اداروں اور جامعات کی جانب سے عمرہ زائرین کی سعودی عرب آمد پر پابندی کی حمایت کی ہے۔

سعودی ادارے رابطہ عالم اسلامی نے ایک بیان میں عمرہ اور مسجد نبوی شریف کی زیارت کے لیے سعودی عرب آمد پر عاید پابندی کو عالمی تنظیموں خصوصاً عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ عالمی ضوابط اور معیار کے عین مطابق قرار دیا ہے۔

رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری اور مجلس علماء المسلمین کے سربراہ شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے کہا ہے کہ رابطہ عالم اسلامی عارضی احتیاطی پابندی کی تائید و حمایت کرتا ہے۔ یہ پابندی اسلامی شریعت کے مقرر کردہ اصول وضوابط کے عین مطابق ہے۔ ’یہ پابندی مسلمہ بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہے۔ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب عمرہ زائرین کو کرونا وائرس کے خطرات سے بچانے کے سلسلے میں پرعزم ہے۔

ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی کے مطابق: ’’مسلم دنیا کے علماء نے اس فیصلے کی تائید وحمایت کی ہے۔ علماء کی طرف سے تائیدی پیغامات ملے ہیں جس میں انھوں نے پابندی کو بین الاقوامی تقاضوں اور شرعی ضرورت کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں لاپروائی بڑی ذمہ داری کا باعث بنے گی۔‘‘

رابطہ عالم اسلامی کے بیان میں اس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ علماء اور دانشوروں کو اس بات کا پوری طرح سے احساس ہے کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر پابندی بھیڑ والے مقامات پر خصوصاً اور پبلک مقامات پر عموماً کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشے کی وجہ سے لگائی گئی ہے‘۔

عرب لیگ

درایں اثنا عرب لیگ کے جنرل سیکریٹری احمد ابو الغیط نے بھی پابندی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یہ فیصلہ کرونا وائرس سے زائرین کی حفاظت کےے کیا ہے۔ یہ ایک قابل قدر احتیاطی اقدام ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے ابو الغیط کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب کا فیصلہ زائرین کی صحت وسلامتی کی خاطر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنا بھی ہے۔ اس فیصلے کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہے کہ عمرہ اور زیارت کے مقامات پر رش بہت زیادہ ہوتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کی روشنی میں کرونا وائرس بھیڑ والی جگہوں پر زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں