ایرانی وزیر نے کہا ہے کہ ایران ورلڈکپ 2026 میں امریکہ کی شریک میزبانی کے باعث شرکت نہیں کرے گا۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر بمباری کر کے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کیا ۔ یہ بات وزیر کھیل احمد دونیا مالی نے بدھ کے روز کہی ہے۔
خیال رہےامریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ جنگ کے پہلے ہی روز ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ایران کے کئی دیگر اعلی حکام بمباری میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ ایران کے خلاف یہ جنگ اب بھی جاری ہے اور امریکہ اور اسرائیلی افواج نے ایران کے ہسپتالوں اور سکولوں سے لے کر کھیلوں کے لیے قائم سپورٹس کمپلیکس اور سول انفراسٹرکچر کو بمباری کرکے تباہ کردیا ہے۔
اب تک تقریبا ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں دو سو کے لگ بھگ پرائمری سکول کی بچیاں اور کئی سول و فوجی حکام بھی شامل ہیں ۔
وزیر کھیل نے کہا ہے کہ جس ملک نے ہمارے سپریم لیڈر کو قتل کیا ہے ہم اس ملک کی میزبانی میں کھیلوں میں کیسے شرکت کرسکتے ہیں۔ ورلڈکپ کا انعقاد 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ ، کینیڈا اور میکسیکو میں متوقع ہے۔
ایرانی وزیر کھیل نے کہا ہمارے بچے اسرائیلی و امریکی بمباری سے محفوظ نہیں ہے ۔ ایسے ماحول میں کھیلوں میں شرکت کا جواز نہیں رہتا۔ دونوں جارح ملکوں نے ہمارے ملک کے خلاف 8 مہینوں کے دوران 2 جنگیں شروع کی ہیں جس میں ہزاروں لوگ شہید ہوئے ہیں۔
یاد رہے اس سال ہونے والے ورلڈ کپ میں ایران کے سوا دیگر سارے رکن ممالک شرکت کر رہے ہیں۔اس صورتحال پر فیفا کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا
-
ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ اب نشانہ بنانے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا:ٹرمپ
ہم نے ایران میں توقع سے بڑھ کر تباہی مچائی ہے:امریکی صدر کا دعویٰ
بين الاقوامى -
امریکی فوج کا ایرانی فضائی حدود کے وسیع حصوں پر کنٹرول کا دعویٰ
ایرانی بحری بیڑا جنگ سے باہر ہو چکا ہے:امریکی سینٹرل کمانڈ کا اعلان
بين الاقوامى -
تہران کے متعدد علاقوں میں زوردار دھماکے، ایرانی میزائلوں کی اسرائیل پر یلغار
اسرائیلی فوج نے مغربی ایران میں ڈرون لانچنگ یونٹ کو نشانہ بنانے کی تصاویر جاری کر ...
مشرق وسطی