.

اسپین میں مارچ 2019ء سےآلودہ پانی میں کرونا وائرس موجود تھا: تحقیقی مطالعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین کے شہر بارسلونا میں مارچ 2019ء سے آلودہ پانی میں کرونا وائرس کے آثار پائے گئے ہیں جبکہ اس یورپی ملک میں اس کے کوئی ایک سال کے بعد کرونا وائرس کے پہلے متاثرہ کیس کی تشخیص ہوئی تھی۔اس بات کا انکشاف بارسلونا یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مطالعے میں کیا گیا ہے۔

کرونا وائرس اور اس سے لاحق ہونے والا مرض کووِڈ-19 کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019ء میں پھیلا تھا لیکن حالیہ سائنسی مطالعات سے اس کی نفی ہوئی ہے اور یہ پتا چل رہا ہے کہ یہ مہلک وائرس اس سے پہلے ہی بعض دوسرے ملکوں میں پھیل چکا تھا۔

بارسلونا یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر اور اس تحقیقی مطالعے کے محقق البرٹ بوش کا کہنا ہے کہ’’ بارسلونا میں بہت سے زائرین آتے ہیں۔ ان میں سیاح بھی ہوتے ہیں اور پیشہ ور حضرات بھی۔یہ ممکن ہے کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اسی طرح کی صورت حال پیش آئی ہو۔چناں چہ کووِڈ-19 کے بیشتر کیسوں میں فلو(زکام) کی ایک جیسی ہی علامات ظاہر ہوئی ہیں، وہ (بیرونی زائرین) غیر تشخیص شدہ فلو کے پردے میں چُھپ گئے ہوں۔‘‘

ہسپانوی محققین نے بارسلونا میں واٹر ٹریٹمنٹ کی دو بڑی تنصیبات میں استعمال شدہ یا آلودہ پانی کا مطالعہ کیا ہے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ آیا آلودہ پانی کے جائزے سے کرونا وائرس کے پھیلنے کا سراغ لگانے میں کوئی مدد مل سکتی ہے۔

اسپین میں 15 جنوری کو بھی پانی میں کرونا وائرس کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔اس کے 40 روز کے بعد 25 فروری کو اسپین نے اپنے ہاں کرونا وائرس کے پہلے تصدیق شدہ کیس کا اعلان کیا تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ مریضوں میں کرونا وائرس کی معمولی علامات پائی گئی ہیں یا ان میں علامات ظاہر ہی نہیں ہوئی تھیں مگر وہ اس بیماری کا شکار تھے۔اس لیے آلودہ پانی پر تحقیق سے کرونا کے کیسوں کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پروفیسر بوش نے یونیورسٹی کی ویب گاہ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’کووِڈ-19 کا شکار ہونے والوں کی ابتدا میں غلطی سے زکام کے مریض کے طور پر تشخیص کی گئی تھی،اس لیے صحتِ عامہ کے کسی قسم کے حفاظتی اقدامات سے قبل ہی کمیونٹی میں یہ وائرس پھیلتا چلا گیا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’بارسلونا میں بالخصوص سارس کوو-2 کا اس وَبا سے نمٹنے کے لیے کسی اقدام سے کوئی ایک ماہ قبل پھیلنے کا سراغ ملا ہے۔‘‘

یہ تحقیقی مطالعہ ماہرانہ جائزے کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔اگر ماہرین اس کی توثیق کردیتے ہیں تو یہ اس امر کا ایک اور ثبوت ہوگا کہ کرونا وائرس سائنسی کمیونٹی کو پتا چلنے سے کافی عرصہ قبل ہی پھیل چکا تھا۔

اسی ماہ اٹلی کے سائنس دانوں کی اس سے ملتی جلتی ایک تحقیق کے نتائج مںظرعام پر آئے ہیں اور انھیں اٹلی کے شمالی علاقے میں دسمبر 2019ء میں استعمال شدہ پانی کے نمونوں میں کووِڈ-19 کے آثار ملےتھے۔فرانسیسی سائنس دانوں نے مئی میں اپنے تحقیقی مطالعہ کے نتائج میں بتایا تھا کہ ایک شخص 27 دسمبر کو کرونا وائرس کا شکار پایا گیا تھا جبکہ فرانس نے اس کے ایک ماہ کے بعد اپنے ہاں کرونا کے پہلے کیس کی تشخیص کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔