.

ڈبلیوٹی او کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے لیے سعودی عرب کے نامزد محمد التویجری سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے شاہی دیوان کے مشیر اور سابق وزیر برائے اقتصادی امور اور منصوبہ بندی محمد التویجری کو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کا نیا ڈائریکٹر جنرل نامزد کیا ہے۔

التویجری سعودی عرب میں مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔انھیں 2016ء میں اقتصادی امور اور منصوبہ بندی کا وزیر مقرر کیا گیا تھا۔اس سال مارچ میں انھیں وزارت کے منصب سے سبکدوش کردیا گیا تھا اور انھیں شاہی دیوان کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔وہ اقتصادی امور سے متعلق بین الاقوامی اور مقامی حکمت عملیوں کے بارے میں شاہی دیوان کو مشورے دینے کے ذمے دار ہیں۔

انھوں نے وزیر اقتصادی امور کی حیثیت سے سعودی عرب کے ویژن 2030 کے مطابق دوررس نتائج کی حامل اقتصادی اصلاحات کی ہیں۔ان کا مقصد تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنا اور دوسرے ذرائع سے مالیاتی وسائل پیدا کرنے کے لیے سعودی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔

اس ویژن کے تحت سعودی عرب کے نجی شعبے کو ترقی دی جارہی ہے۔اس کا مقصد مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی) میں اس کے حصہ کو 65 فی صد تک بڑھانا ہے۔اس وقت جی ڈی پی میں نجی شعبے کا حصہ 40 فی صد ہے۔

محمد التویجری نے وزیر کی حیثیت سے سعودی عرب میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی اور انھیں مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے نج کاری اور نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت داری پر بھرپور توجہ دی تھی۔ان دونوں عوامل کو ویژن 2030ء کے مقاصد واہداف کے حصول میں اہم خیال کیا جارہا ہے۔

انھوں نے گذشتہ سال ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم میں العربیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی شرح نمو میں تیل کے علاوہ دوسرے شعبوں کے کردار کی اہمیت پر زوردیا تھا اور کہا تھا کہ ہم مقامی صنعتوں اور کاروباروں کو ترقی دینا چاہتے ہیں تاکہ سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

محمد التویجری وزارت اقتصادی امور اور منصوبہ بندی کا قلم دان سنبھالنے سے پہلے بنک کاری کے شعبے سے وابستہ تھے اور وہ کوئی 20 سال تک دنیا کے چند بڑے بنکوں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے چکے تھے۔

انھوں نے بنک کاری میں اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر کا آغاز 1995ء میں سعودی برٹش بنک (ساب) سے کیا تھا۔تب انھیں اس بنک کے شعبہ ٹریژری (خزانہ) میں رسک مینجمنٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔2007ء میں انھوں نے جے پی مورگن سعودی عرب کے مینجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹوآفیسر ( سی ای او) کی حیثیت اپنی نئی ملازمت کا آغاز کیا تھا اور اس بنک کے سعودی عرب میں قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کی کاوشوں کے نتیجے میں2010ء تک یہ بنک سعودی عرب میں مکمل طور پر فعال ہوچکا تھا۔التویجری اس کے بعد ایچ ایس بی سی ہولڈنگ میں چلے گئے تھے اور اس کے گروپ مینجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی چئیرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔وہ ایچ ایس بی سی بنک مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے سی ای او بھی رہے تھے۔ یہ دنیا کے بڑے بنکوں میں سے ایک ہے۔

علاقائی سی ای او کی حیثیت سے محمد التویجری خطے کے مختلف ملکوں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت اور مصر وغیرہ کے مرکزی بنکوں ،کیپٹل مارکیٹوں ،وزرائے تجارت اور اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہتے تھے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر محمد التویجری کا ابتدائی تعلیمی پس منظر ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور ذمے داریوں سے بالکل مختلف تھا۔ تاہم انھوں نے بعد میں کاروباری انتظام میں بھی اعلیٰ ڈگری حاصل کی تھی۔ انھوں نے 1980ء میں سعودی عرب کی شاہ فیصل فضائی اکیڈمی سے ائیروناٹیکس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی۔اس کے بعد 1988ء میں انھوں نے سعودی عرب کی شاہی فضائیہ میں لڑاکا پائیلٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی اور 1991ء کی خلیج جنگ میں حصہ لیا تھا۔ انھیں ان کے جنگی کارناموں پر مختلف اعزازات سے نوازا گیا تھا۔انھوں نے 1997ء میں جامعہ شاہ سعود سے کاروباری انتظام میں ماسٹرز (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی تھی اور مالیات میں تخصص کیا تھا۔