.

’’ایرانی جیلوں میں خواتین پر جنسی زیادتی کے حملے اور تشدد کی لرزہ خیز داستان‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اپنی جیلوں میں قید خواتین کے خلاف تشدد اور عصمت دری سمیت متعدد لرزہ خیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اس امر کا انکشاف ’’العربیہ‘‘پر نشر ہونے والی حالیہ دستاویزی فلم میں کیا گیا ہے۔

ایرانی صحافی اور سماجی کارکن نرگس گیوور نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ سیکڑوں خواتین جمہوریت کی ترویج، خواتین حقوق اور آزادی کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں ایرانی جیلوں میں قید ہیں جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

نرگس کے بقول انھوں نے ایران کے گھنائونے جرائم سے متاثرہ افراد کے ہر ممکن دفاع کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسے متاثرہ افراد کی آواز ایران سے باہر دنیا تک پہنچائیں گی۔

العربیہ کی دستاویزی فلم میں ایرانی زندان کے مظالم سے زندہ بچ نکل کر کینیڈا پہنچنے والی کچھ خواتین کے انٹرویوز بھی شامل ہیں

اکثر چھے میٹر پر محیط کے ایک کیمرے میں چالیس قیدی بند کیے جاتے ہیں، جو موسمی شدت سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کمبل شیئر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جیل سے رہائی پانے والی قیدی فرشتہ رحمتی نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا: ’’ہمارے چھ میٹر پر محیط کمرے میں 33 سے 44 لوگ بند تھے۔ انھوں [جیل حکام] نے ہمیں دو سپاہیوں کے کمبل دیے۔ جب ہمیں سونا ہوتا تو ایک کمبل کھول کر خود کو ڈھانپنے کی کوشش کرتے۔‘‘

قید کے دوران تقریباً کئی درجن خواتین کو تشدد اور عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی قومی مزاحمتی کونسل کے مطابق ملکی جیلوں میں ہزاروں خواتین قیدی موجود ہیں اور سات برس قبل حسن روحانی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لے کر اب تک 106خواتین کو فنا کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

ایرانی اسیری سے رہائی پانے والی شاہین سنگ نے العربیہ کو بتایا کہ ’’چار برس تک میری ہم جماعت اور قریبی سہیلی کو ایرانی حکام نے گرفتار کیا۔ چند ماہ بعد پتا چلا کہ وہ دوران حراست تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے کوچ کر گئی۔ وہ ایک خوبصورت، ذہین، مشفق اور ہونہار طالبہ تھی۔‘‘

شاہین کے مطابق: "بے پناہ تشدد کی وجہ سے جیل میں مرنے والی میری سہیلی کی والدہ اپنی بیٹی کو بھی پہچان نہیں پا رہی تھی۔ اس کے سر کے بال کاٹ دئے گئے تھےاور سارے جسم پر نیل کے نشان تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ اسے جیل میں جنسی زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیا۔"

ایرانی جیل حکام کا سمجھتے ہیں کہ کنواری لڑکیاں اگر جیل میں مریں تو وہ سیدھی جنت سدھار جائیں گی۔ سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے ایسی کنواری لڑکیوں کی جبری شادی یا پھر انہیں زیادتی کا شکار کر کے بزعم خود ان کے جنت میں داخلے کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جبری نکاح کے بعد ایسی خواتین کے لواحقین کو سزائے موت پر عمل درآمد کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس اطلاع کے ساتھ نکاح نامہ پیش کر کے خاندان سے مخصوص جہیز لینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

کینیڈا کی پارلیمنٹ نے ایرانی جیلوں میں قید خواتین کی رہائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کینیڈا کے ہائوس آف کامنز کے رکن ڈیوڈ انڈرسن نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ہمیشہ ایرانی جیلوں میں بند خواتین کی رہائی اور سزائے موت معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "ایران میں انصاف کی آڑ میں ناانصافیاں کی گئی ہیں۔ جیلوں سے رہا ہونے والی خواتین نے بتاتی ہیں کہ جیل میں اسیر خواتین کے بنیادی حقوق کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ انہیں اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کرنے دیا جاتا۔ اسیران سے اہل خانہ کی ملاقات کی سخت مانیٹرنگ اور ہراسگی عام معمول بن گیا ہے۔"