.

سعودی عرب، قطر تعلقات:خلیج بحران کے دوران میں کب، کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے سوموار کی شب قطر کے ساتھ واقع اپنی فضائی ، برّی اور بحری سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا اور منگل کو العُلا میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے سے سعودی عرب سمیت چار ممالک کے قطر کے ساتھ جاری تنازع کا خاتمہ ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

قطراور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کوئی نئی ہے۔قطری ریاست پر ایک عرصے سے خلیج تعاون کونسل کے دوسرے ممالک کے امن و سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے آج تین سال کے بائیکاٹ کے بعد قطر کے ساتھ سیاسی ، سفارتی اور تجارتی تعلقات دوبارہ استوار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قطر اور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان گذشتہ تین عشروں کے دوران میں کیا کیا ناخوش گوار واقعات پیش آئے تھے جو ان کے درمیان تعلقات کے انقطاع پر منتج ہوئے تھے،ان کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:

1992ء: سرحد پر جھڑپیں

سعودی عرب اور قطر کے درمیان 1992ء میں برّی سرحد پر مسلح جھڑپ ہوئی تھی اور اس میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

2002-2008ء: قطر سے سعودی سفیر کی واپسی

سعودی عرب نے قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی کوریج کے خلاف احتجاج کے طور پر 2002ء میں دوحہ میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور 2008ء تک اپنے سفیر کو واپس دوحہ نہیں بھیجا تھا۔

2014ء:دوحہ سے سعودی ، بحرینی اور اماراتی سفیروں کا انخلا

مارچ 2014ء میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر پر الاخوان المسلمون سمیت انتہاپسند اسلامی گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا اور اس پر احتجاج کے طور پر دوحہ میں متعیّن اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔

اسی سال یو اے ای اور سعودی عرب نے مصر سے تعلق رکھنے والی قدیم سیاسی اسلامی تحریک الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔انھوں نے قطر پر الاخوان کے بعض لیڈروں کو پناہ دینے کا الزام عاید کیا تھا۔اس نے مصر سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین شیخ یوسف القرضاوی کو شہریت بھی دی تھی۔

اس وقت قطر جی سی سی کا صدر ملک تھا اور اس کے دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں سردمہری پائی جارہی تھی۔امیر قطر نے جی سی سی کے دوسرے رکن ملکوں کو دوحہ میں سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔اس دعوت نامے کے بعد سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اپنے اپنے سفیر کو دوحہ واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

جون 2017ء: تمام تعلقات کا انقطاع

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے جون 2017ء میں قطر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ انھوں نے اس پرالاخوان المسلمون کی پشتیبانی اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے علاوہ ایران سے تعلقات استوارکرنے اور ان چاروں ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا لیکن قطر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

اسی ماہ ان چاروں ممالک نے قطر کو 13 مطالبات پر مبنی ایک فہرست جاری کی تھی اور اس سے کہا تھا کہ وہ اس فہرست کا 10 روز میں جواب دے۔

قطر سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایران اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لے ، الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کو بند کردے، قطر میں ترکی کی فوجی موجودگی کا خاتمہ کرے،مطلوب دہشت گردوں کو متعلقہ ملک کے حوالے کرے اور اپنے پڑوسی ممالک میں مداخلت کا سلسلہ بند کردے۔اس کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے اور اپنے ہمسایہ ممالک کو ان مطالبات پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے دے۔

تب سعودی پریس ایجنسی نے یہ اطلاع دی تھی کہ مملکت نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ اس کی گذشتہ برسوں کی ضرررساں پالیسیوں کے ردعمل میں کیا تھا۔سعودی عرب کے مرکزی بنک نے مملکت کے بنکوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ قطری بنکوں کے ساتھ قطری ریال میں کوئی لین دین نہ کریں۔

تینوں خلیجی ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے تمام روابط منقطع کر لیے تھے اور قطر سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور مکینوں کو دو ہفتے میں نکل جانے کا حکم دیا تھا۔سعودی عرب ، بحرین اور مصر نے قطری طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنےسے روک دیا تھا۔

یوای اے اور سعودی عرب نے قطر کو سفید چینی کی برآمد بند کردی تھی اور قطر میں غذائی اجناس کی ممکنہ قلّت کے پیش نظربعض مکینوں اور شہریوں نے خوراک کو ذخیرہ کرنا شروع کردیا تھا۔

جون 2018ء: قطر کا نیٹو میں شمولیت کی خواہش کا اظہار

اس خلیجی بحران کے ایک سال کے بعد جون 2018ء میں قطری وزیردفاع نے معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

لیکن قطر کا نیٹو میں شمولیت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا اور نیٹو کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے واضح کیا تھا کہ اس مغربی فوجی اتحاد میں صرف یورپی ممالک ہی شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔

جنوری 2021ء: سعودی عرب کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان

تین سال سے زیادہ عرصے کے بائیکاٹ کے بعد 5 جنوری کو کویتی وزیر خارجہ احمد ناصر الصباح نے اعلان کیا کہ کہ ’’سوموار کی شب سے سعودی عرب قطر کے ساتھ واقع اپنی برّی اور بحری سرحدی کھول رہا ہے۔اس نے یہ فیصلہ قطر کا معاشی مقاطعہ ختم کرنے کے لیے امیرکویت شیخ نواف الاحمد الصباح کی پیش کردہ تجویز کی روشنی میں کیا ہے۔‘‘

سعودی عرب نے قطر سے دوبارہ زمینی اور فضائی روابط استوار کرنے کا فیصلہ العُلا شہر میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اکتالیسویں سربراہ اجلاس کے انعقاد سے ایک روز قبل کیا تھا۔العُلا میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے بہ نفس نفیس جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا تھا اور بعد میں ان سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

قطر اور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر قطری شہریوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز پوسٹ کی ہیں جن میں دوطرفہ تعلقات کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا ہے۔