.

 سعودی فلموں کو کس سرکاری ٹیکس سے مستثنی کیا گیا ہے؟  

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت اطلاعات نے مقامی فلموں کو اس ٹیکس سے چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے جو بصری اور صوتی ذرائع ابلاغ کی اتھارٹی کی جانب سے ٹکٹوں کی فروخت پر 25 فی صد کے تناسب سے عائد ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات ماجد القصبی نے 11 اپریل کو اس فیصلے کا اعلان کیا کہ مقامی صنعت کی سپورٹ کے لیے سعودی فلموں کو مذکورہ اتھارٹی کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔

سعودی پروڈکشن کمپنی "مرکوٹ" کے چیف ایگزیکٹو عبدالعزیز المزینی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سینیما مارکیٹ کے جائزے کی مساوات قوت خرید، معاشرے میں نوجوانوں کے طبقے کا تناسب اور آبادی کی تعداد جاننے کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ مملکت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا پھیلاؤ شروع ہو گیا ہے جس کی بنیاد پر دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پروڈکشن کے مستقبل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے حکومتی اداروں کے ارادے یا بڑی کمپنیوں کے عمل درامد کے انتظار کی ضرورت نہیں۔ آئندہ تین برسوں کے دوران میں سعودی عرب میں پروڈکشن کے حوالے سے قابل ذکر اضافہ دیکھا جائے گا۔

وزارت ثقافت ک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس (2020ء) کے دوران میں 30 سعودی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔ فلمی صںعت پر نظر رکھنے والی امریکی کمپنی "کوم اسکور" کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں فن کی دنیا میں دیکھی جانے والی پیش رفت مملکت کو آئندہ چند برسوں میں دنیقا کی 10 طاقت ور ترین سینیما مارکیٹس میں لا کھڑا کرے گی۔

ادھر ڈیٹا ریسرچ کمپنی "گلوبل نیوز وائر" نے توقع ظاہر کی ہے کہ سال 2030ء کے اختتام تک سعودی عرب میں سینیما مارکیٹ کا حجم 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

سعودی عرب میں بصری اور صوتی ذرائع ابلاغ کی اتھارٹی کے مطابق صرف گذشتہ برس (2020ء) کے دوران مملکت کے دس بڑے شہروں میں سینیما گھروں میں فلم بینی کے لیے 65 لاکھ سے زیادہ ٹکٹیں فروخت ہوئیں۔