.

اطالوی بندرگاہ کے ورکروں کا اسرائیل جانے والے جہاز پر اسلحہ لادنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کی ایک بندرگاہ پر ورکرز یونین نے اسرائیل کو بھیجے جانے والے ایک جہاز پر اسلحہ لادنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں میں حصہ نہیں بننا چاہتی ہے۔

اٹلی کے ساحلی شہر لفرنو کی بنرگاہ کی اسٹاف یونین نے کہا ہے کہ ’’وہ جہاز پر اسلحہ کی کھیپ نہیں لادے گی کیونکہ یہ پتا چلا ہے کہ اس جہاز کی منزل مقصود اسرائیل کی اشدود میں واقع بندرگاہ ہے۔‘‘

یونین سنڈاکیل ڈی بیس (یو ایس بی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’لفرنو کی بندرگاہ فلسطینی عوام کے قتلِ عام میں حصہ دار نہیں بنے گی۔‘‘بیان میں جنیوا میں قائم گروپ ’’ویپن واچ‘‘ کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ’’کھیپ میں ایسا اسلحہ اور گولہ بارود شامل ہے جس کو فلسطینی عوام کے قتل عام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘

اس یونین کے انکار کے بعد بندرگاہ کے دوسرے ورکروں نے اسلحہ کی کھیپ بحری جہاز پرلاد دی ہے اور اس کے بعد وہ نیپلز کے راستے اسرائیل کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

یوایس بی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’اس کے کارکنان غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیں گے اور غزہ پر فضائی بمباری فوری طور پر رکوانے کا مطالبہ کریں گے۔‘‘

ادھر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری لڑائی دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حماس اور دوسری فلسطینی تنظیموں کے زیراستعمال سرنگوں کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہا ہے۔اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے سوموار کو علی الصباح غزہ کی پٹی کے نو میل کے علاقے میں واقع سرنگوں پر تباہ کن بمباری کی ہے اور حماس کے نو کمانڈروں کے مکانوں کو تباہ کردیا ہے۔

غزہ کے میئر یحییٰ سراج کا کہنا ہے کہ ’’ان فضائی حملوں سے شہر کی سڑکوں اور دوسرے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اگر اسرائیل کی جارحیت اسی طرح جاری رہتی ہے تو صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی۔‘‘

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں 200 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں 58 بچّے اور 35 خواتین شامل ہیں۔ان کے علاوہ 1300 افراد زخمی ہوئے ہیں۔غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔