.

سعودی ولی عہد نے ’’تاریخی جدہ‘‘ کے از سر نو بحالی منصوبے کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے تاریخی جدہ احیائے نو پروجیکٹ کا اعلان کیا ہے۔
منصوبے کے تحت اسے ثقافتی پروگراموں اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش علاقے میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہ مستقبل کے پروگرام سازوں کا مرکز بنے گا۔

ولی عہد نے جدہ تاریخیہ کے احیائے نو کا پروگرام سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول اور تاریخی مقامات کے تحفظ اور مملکت کے اسلامی وعرب تشخص کو اجاگر کرنے کے جذبے سے بنایا ہے۔

جدہ تاریخیہ کا علاقہ 600 سے زیادہ تاریخی عمارتوں، 36 تاریخی مساجد، 5 بڑے تاریخی بازاروں، راہداریوں اور قدیم میدانوں نیز اہم تاریخی شواہد والے مقامات سے مالا مال ہے۔

ایک زمانے میں یہ حجاج کی اہم راہ گزر ہوا کرتا تھا- نئے منصوبے کے تحت جدہ تاریخیہ سے پیار کرنے والوں کے لیے پرانی یادوں کو نئے انداز سے زندہ کیا جائے گا۔ آغاز اسلام سے لے کر تاحال جدہ تاریخیہ کی پہچان کو نمایاں کیا جائے گا۔

جدہ تاریخیہ کے منصوبے پر پندرہ برس تک کام ہوگا۔ اس دوران اس کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیا جائے گا۔ یہاں مختلف قسم کی سہولتیں فراہم کی جائیں گے۔ ماحولیاتی اور قدرتی ماحول برپا کیا جائے گا۔ زندگی کا معیار اچھا کیا جائے گا۔ تمدنی عناصر کو نمایاں کیا جائے گا۔

جدہ تاریخیہ پروگرام کے تحت 5 کلومیٹر طویل واٹر فرنٹ کا انتظام ہو گا۔ یہاں سبزہ زار ہوں گے اور جدہ البلد کے پندرہ فیصد رقبے پر کھلے پارک قائم کیے جائیں گے۔ یہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی ایک خوبصورت مقام بن جائے گا۔

یاد رہے کہ تیسری قبل مسیح میں یہ شہر ماہی گیری کے مرکز کے طور پر بسا تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کا کردار بدلتا رہا۔ خلیفہ سوم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں بندرگاہ قائم ہوئی جسے 1970 کے دوران سعودی عہد میں جدہ اسلامی بندرگاہ کا نام دیا گیا۔

علاوہ ازیں سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان نے جدہ تاریخیہ کے احیائے نو کے منصوبے کے اعلان پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ممنونیت کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ولی عہد مملکت میں ثقافتی شعبے کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ نئے منصوبے کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ جدہ تاریخیہ کا مملکت کی تاریخ میں بڑا اہم مقام ہے۔

یہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل اور سعودی عرب کے ان مقامات میں سے ایک ہے جو یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔