.

متحدہ عرب امارات:’گولڈن ویزا‘اور’گرین ویزا‘کی اہلیت اور درخواست کی احتیاجات کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے نے گذشتہ سال ’’گولڈن ویزا‘‘متعارف کرایا تھا۔مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو متحدہ عرب امارات میں دس سال کی میعاد کے لیے یہ ویزا جاری کیا جاتا ہے۔اس ہفتے یواے ای نے ’’گرین ویزا‘‘ کے نام سے ایک اور اسکیم متعارف کرائی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل غیرملکیوں سمیت مختلف زمروں کے لیے طویل مدت کی رہائش کے ویزے متعارف کرائے ہیں۔

اس ہفتے کے اوائل میں متعارف کردہ گرین ویزا کی شرائط کے مطابق اب یو اے ای میں انتہائی ہنرمند افراد کسی آجر سے وابستہ ہوئے بغیرخود کو اسپانسر کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت نے ایک نئے ’’فری لانسر ویزا‘‘کا بھی اعلان کیا ہے۔

ویزے کا یہ نیا نظام متحدہ عرب امارات میں مقیم غیرملکیوں کوان کے اہل خانہ کے ساتھ پہلے سے برسرروزگار نہ ہونے کی صورت میں بھی رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ایسے افراد اگر ملک میں کام کرنا،رہنا اور تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں،تو انھیں اماراتی اسپانسر کے بغیر طویل مدت کی رہائش کا ویزا حاصل کرنے کی اجازت ہے۔

50 نئے منصوبے

متحدہ عرب امارات نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ معاشی مسابقت کو فروغ دینے اور اگلے نو سال میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 150 ارب ڈالر (550 ارب اماراتی درہم) کو فروغ دینے کے لیے پچاس نئے اقتصادی اقدامات شروع کرے گا۔

ان نئے منصوبوں کے حصے کے طور پر متعارف کردہ قانونی ترامیم میں سے ایک انٹری اور ریزیڈنسی سسٹم کی تشکیل نو ہے۔اس میں تارکین وطن کے لیے گرین ویزا، فری لانسر ویزا کا اعلان اور گولڈن ویزا کی اہلیت میں توسیع شامل ہے۔

گولڈن ویزا

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ سال پانچ یا دس سالہ مدت کے لیے گولڈن ویزے کے اجرا کا اعلان کیا تھا۔یہ ویزا ڈاکٹروں، سائنسدانوں، جدت پسندوں، محققین،امتیازی تعلیمی قابلیت کے حامل طلبہ، انسانی کارکنوں، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، منیجروں،چیف ایگزیکٹو افسروں (سی ای اوز)اور سائنس، انجینئرنگ، صحت، تعلیم، بزنس مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ ماہرین کوجاری کیا جاتا ہے۔

حاکمِ دبئی شیخ محمد بن راشدآل مکتوم نے کہا تھا کہ گولڈن ویزا کا مقصد متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ بین الاقوامی ہنر مند اوربا صلاحیت افراد کو ملک میں طویل مدت کے قیام پر آمادہ کرنااور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

یواے ای کی حکومت نے اس ہفتے کے اوائل میں اس ویزے کی اہلیت میں توسیع کی ہے اوراب مختلف شعبوں کے ماہرین اس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

گرین ویزا

متحدہ عرب امارات نے گرین ویزا کے نام سے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی ہے جو ورک پرمٹ اور اقامتی ویزوں میں فرق کرتی ہے۔

گرین ویزا انتہائی ہُنرمند افراد، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور ممتازطلبہ اور گریجوایٹس کو جاری کیا جائے گا۔ اس سے دیگر امورکےعلاوہ فری لانسرز، بیواؤں اور طلاق یافتہ افراد کے لیے ویزا پابندیوں میں بھی نرمی کی جائے گی۔گرین ویزا رکھنے والے افراد خود مکتفی ہوں گے اور18 سال کی بجائے 25 سال تک والدین اور بچّوں کی کفالت کرسکتے ہیں۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں غیرملکیوں کی رہائش ملازمت سے مشروط ہوتی تھی اور کوئی آجر اگر کسی تارک وطن ملازم کو برخاست کردیتا تھا تو پھر اس کو ملک سے جانا پڑتا تھا اور وہ اس کے بغیر مقیم نہیں رہ سکتا تھا۔

آجروں کوغیرملکیوں کا اسپانسرسمجھا جاتا تھا اور اگر کوئی غیر ملکی اپنی ملازمت کھودیتا ہے توانھیں ایک ماہ کے اندرمتحدہ عرب امارات میں رہنے کے لیے ملک نیا روزگار تلاش کرنے یا پھر ملک چھوڑنے پرمجبورکیا جاتا ہے۔

مزید برآں،والدین پہلےاپنی بیٹی کے رہائشی ویزے کی کفالت کرسکتے تھے جب تک کہ وہ شادی نہ کر لے۔تاہم، بیٹوں کو صرف 18 سال کی عمر تک اسپانسر کرنے کی اجازت تھی۔اب وہ 25 سال تک انھیں اسپانسر کرسکتے ہیں۔

فری لانسرویزا

فری لانسرویزااپنی نوعیت کی پہلی وفاقی اسکیم ہے۔فری لانسرآجر کی حیثیت سے خود کو سپانسر کرسکتے ہیں۔

یواے ای نے جو بعض دوسری تبدیلیاں کی ہیں،ان میں کاروباری سفرکے اجازت ناموں میں تین ماہ سے چھے ماہ تک توسیع، براہ راست خاندان کے افراد کے ویزے کے تحت والدین کی کفالت،انسانی صورت حال میں ایک سال کی رہائش میں توسیع، والدین کے ہاں بچوں کو 18 سال کے بجائے 25 تک رہنے کی اجازت اور ملازمت سے محروم ہونے یا ریٹائرمنٹ پرمہلت کی مدت کو 90 دن سے بڑھا کر180 دن تک کرنا شامل ہیں۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق ویزا سے متعلق پابندیوں کو نرم کیا گیا ہے۔غیرملکی سرمایہ کاروں اور باصلاحیت افراد کو کسی اسپانسر کے بغیراور اپنے کاروبار کی 100 فی صد ملکیت کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے طویل مدت کی رہائش کے ویزے جاری کیے جارہے ہیں۔

’’گرین ویزا‘‘اور’’گولڈن ویزا‘‘ کی درخواست

متحدہ عرب امارات کے رہائشی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت اور شہریت کی ویب سائٹ کے ذریعے گولڈن ویزا ایپلی کیشن سسٹم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں: https://smartservices.ica.gov.ae/

اس میں ’’گولڈن سروسز‘‘سیکشن میں، ایک اہل شخص "نامزدگی کی درخواست" جمع کراسکتا ہے۔البتہ اگراسے ابھی تک طویل مدتی ویزا حاصل کرنے کے لیے نامزد نہیں کیا گیا ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں لوگ اس نمبر600522222 پر فون کرکے اتھارٹی کے کال سینٹر سے رجوع کرسکتے ہیں۔تاہم یو اے ای نے ابھی تک گرین ویزا کے لیے درخواست کے طریق کار کا اعلان نہیں کیا ہے۔