.

سلامتی کونسل کا تین حوثی رہنماؤں کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ قابل قدر ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت خارجہ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی دہشت گردوں کے تین رہنماوں کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق حوثیوں کے تینوں رہنما جنہیں بلیک لسٹ کیا گیا ہے یمن میں امن و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ بنے ہوئے تھے۔

وزارت خارجہ نے بیان میں امید ظاہر کی کہ ’سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ حوثی دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی سرگرمیوں کو لگام لگانے میں معاون بنے گا‘۔

اس اقدام سے حوثیوں کے خطرات پر قدغن لگے گی۔ دہشت گرد تنظیم کے لیے میزائلوں، ڈرونز، خطرناک اسلحہ اور لڑائی کے لیے سرمایہ کی فراہمی بند ہو گی۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’سعودی عرب یمن اور اس کی آئینی حکومت کی مدد کرتا رہے گا‘۔

علاوہ ازیں مملکت یمنی بحران کو ختم کرانے والے مکمل سیاسی حل تک رسائی کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔

وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ’ سعودی عرب چاہتا ہے کہ یمنی بھائیوں کے مصائب دور ہوں۔سعودی عرب اس حوالے سے ہر کوشش کی حمایت کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا‘۔