.

’مسعیٰ‘: پتھروں سے آراستہ دُنیا کا طویل ترین کوری ڈور کن مراحل سے گذرا

دو پہاڑوں کے درمیان کوری ڈور کی لمبائی 394 میٹر اور چوڑائی 20 میٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد حرام کے پہلو میں موجود سعی کے مقام [معسیٰ] کو دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے طویل کوری ڈور سمجھا جاتا ہے۔ مسعیٰ کی تعمیر ماضی میں مختلف مراحل میں ہوتی رہی ہے۔ شروع میں یہ کچا راستہ تھا جو صرف مٹی بنا تھا اور اسے پتھروں اور چھتوں سے ہموار کیا گیا تھا۔

مکہ مکرمہ کی تاریخ اور سیرت نبویﷺ کے محقق سمیر برقہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا المسعیٰ عظیم الشان مسجد حرام کے مشرق میں ایک سڑک ہے جس کی سرحد جنوب میں الصفا اور شمال میں المروہ سے ملتی ہے۔ الصفا اور المروہ مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے درمیان دو پہاڑ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج یا عمرہ کے مناسک ادا کرتے وقت الصفا اور المروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگائے جاتے ہیں۔ ایک چکر الصفا سے المروہ تک اور ایک چکر المروہ سے صفا تک ہوتا ہے۔ اس طرح سات چکر پورے کیے جاتے ہیں۔

مسعیٰ میں حجاج سعی کر رہے ہیں
مسعیٰ میں حجاج سعی کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ مسعیٰ دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے طویل گیلری ہے۔ دو پہاڑوں کے درمیان مسعی کی لمبائی 394.5 میٹر اور چوڑائی 20 میٹر ہے، جب کہ المسعی میں زیریں منزل کی اونچائی ہے۔ 11.75 میٹر ہے، اور بالائی منزل کی اونچائی 8.5 میٹر ہے۔ حجاج کرام سات چکروں میں مجموعی طور پر 2761.5 میٹر کا سفر طے کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 13صدیوں کے دوران مسعی کی چھت آسمان اور فرش زمین کی خاک تھی۔ جو شخص صفا جانا چاہتا تھا وہ بیت اللہ کا دیدار کرتا، قبلے کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا اور پھر مروہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ صفا سے تھوڑی دیر بعد راستے میں ایک وادی سے ملتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے سات چکر پورے کرتا ہے۔ یہ ایک سنت عمل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کیا اور حجاج کرام کو اس کی تاکید کی تھی۔

مسعیٰ تاریخ کے جھروکے سے
مسعیٰ تاریخ کے جھروکے سے

مسعیٰ میں ہونے ترقیاتی تبدیلیاں

المسعیٰ ماضی میں کئی مراحل سے گذری۔الصفا پر 12 اور المروہ پر 15درجے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں تاکہ ان پر چڑھنے میں آسانی ہو۔ سیڑھیوں کی کئی بار تجدید کی گئی تھی۔سنہ 1339ھ میں مسعی میں سائبان لگائے گئے۔ سعی کرنے والوں کے لیے سایہ کرنے کا مقصد انہیں سعی میں سورج کی تپش سے بچانا تھا۔

مسعیٰ میں ٹائلیں لگانے کا عمل

سمیر برقہ نے کہا جب شاہ عبدالعزیز آل سعود نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے مسعیٰ کو مربع پتھروں سے ہموار کرنے کا حکم دیا انہوں نے عندیہ دیا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا مسجد حرام میں توسیع کا منصوبہ اس کی تاریخ میں سب سے بڑی توسیع ہے جس کا مقصد زائرین کے لیے عبادات کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا تھا۔

فرزندان توحید سعی کی سنت ادا کر رہے ہیں
فرزندان توحید سعی کی سنت ادا کر رہے ہیں

اس توسیع کی وجہ سے زائرین کے لیے چلنے کی گنجائش بڑھ گئی۔ چوڑائی کو دوگنا کرنے کی کوشش کی گئی۔ مسعیٰ کی منزلیں بڑھا کر چار کر دی گئیں۔ جس کا کل رقبہ 87 ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہے جب کہ کل رقبہ تقریباً 29 ہزار مربع میٹر تھا۔ توسیع سے پہلے 43 ہزار مربع میٹر سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں