شیرین ابو عاقلہ کی شہادت اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہوئی: غیر سرکاری تنظیم کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مقبوضہ مغربی کنارے میں رپورٹنگ کے دوران جان سے ہاتھ دھونے والی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کی شہادت کی تحقیقات پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ دونوں جانب سے متضاد دعوؤں کے بعد مختلف آزاد گروہوں نے اپنے طور پر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایک تحقیقاتی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج فلسطینی عینی شاہدین کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں کہ خاتون صحافی اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوئیں۔

شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات سے بین الاقوامی رائے قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ان کی موت کا ذمّے دار کون ہے۔ فی الوقت اسرائیل اور فلسطینی بیانیے کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں جس میں اسرائیل دفاعی انداز اپناتا نظر آرہا ہے۔

فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیرین ابو عاقلہ 25 سال سے قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' سے وابستہ تھیں۔ گیارہ مئی برزو بدھ کو وہ مغربی کنارے کے 'جنین مہاجر کیمپ' میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں کی کوریج کر رہی تھیں کہ اس دوران وہ سر میں گولی لگنے سے شہید ہو گئیں۔

ابو عاقلہ عرب ممالک میں ایک جانا پہچانا نام تھیں۔ وہ اسرائیل کی حکمرانی میں فلسطینیوں کی مشکلات دنیا کے سامنے لانے کے لیے مشہور تھیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے خاتون صحافی کی موت پر اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے شیرین ابو عاقلہ کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ وہ ان کے کام کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ ان کے قتل کی فوری اور معتبر تحقیقات ہونی چاہئیں۔

فلسطینی حکام اور عینی شاہدین بشمول ابو عاقلہ کے ساتھ موجود صحافی کہتے ہیں کہ خاتون صحافی کی موت اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہوئی۔ اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے قتل کے ذمے دار فلسطینی اسلحہ بردار ہوسکتے ہیں۔ لیکن بعد ازاں فوج اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی اور اب اس کا کہنا ہے کہ ابو عاقلہ کی موت کی وجہ اسرائیلی فائرنگ ہوسکتی ہے۔

اسرائیل نے خاتون صحافی کی ہلاکت پر فلسطینیوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کی پیش کش بھی کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہیں لگنے والی گولی کی ماہرین سے لازمی جانچ کرائی جائے تاکہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جاسکے۔ لیکن فلسطینی حکام نے اسرائیل کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر اعتبار نہیں کرتے۔

فلسطینی حکام نے دیگر ملکوں کو بھی تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا اپنی فوج کے غیر قانونی کاموں کی تحقیقات کے بارے میں ریکارڈ اچھا نہیں۔

یروشلم میں پیدا ہونے والی 51 سالہ شیرین ابو عاقلہ ایک نامور فلسطینی صحافی تھیں جو 1997 سے الجزیرہ عربی سے وابستہ تھیں اور ان کے پاس امریکہ کی شہریت بھی تھی۔

تحقیقی صحافت پر کام کرنے والے نیدرلینڈ کے ایک گروپ 'بیلنگکیٹ' نے حال ہی میں واقعے سے متعلق ایک تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ رپورٹ واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور آڈیوز کے جائزے پر مبنی ہے جس کا مواد فلسطینی اور اسرائیلی فوج کے ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے۔

بیلنگکیٹ کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد انہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ فلسطینی مسلح افراد اور اسرائیلی فوجی دونوں ہی اس علاقے میں موجود تھے۔ لیکن شواہد عینی شاہدین کے بیانات کی توثیق کرتے ہیں کہ ابو عاقلہ کی موت اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ہوئی۔

اس تحقیقی رپورٹ کی سربراہی کرنے والے محقق جانکارلو فیوریلا کہتے ہیں کہ "جس مواد کا ہم جائزہ لے سکتے تھے اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی ابو عاقلہ کے سب سے قریب تھے اور وہ انہیں واضح طور پر دیکھ سکتے تھے۔"

'بیلنگکیٹ' کا شمار ان کمپنیوں میں ہوتا ہے جو "اوپن سورس انفارمیشن" مثلاً سوشل میڈیا ویڈیوز، سیکیورٹی کیمرے کی ریکارڈنگز اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے تحقیق کر کے کسی واقعے کے شواہد سامنے لانے کی کوشش کرتی ہیں۔

جانکارلو فیوریلا نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ تجزیہ دیگر شواہد کے جائزے کے بغیر 100 فی صد درست نہیں ہوسکتا۔ ان شواہد میں خاتون کو لگنے والی گولی، فوج کی جانب سے استعمال کیا جانے والا اسلحہ اور اسرائیلی فوج کی جی پی ایس لوکیشن بھی شامل ہیں۔ لیکن ان کے بقول اضافی شواہد کی بنیاد پر جو نتائج اخذ کیے جاتے ہیں وہ بہت کم ہی غلط ثابت ہوتے ہیں۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی گروپ بھی واقعے کی اپنے طور پر تحقیقات کر رہا ہے۔ 'بیتسلیم' نامی اس گروپ کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی تحقیق کے نتائج کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ اس گروپ نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج سے اس کا یہ مؤقف تبدیل کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا کہ خاتون صحافی کی موت فلسطینی اسلحہ برداروں کی گولی سے ہوئی۔

اسرائیلی فوج سے اس واقعے کی تحقیقات کے بارے میں جاننے کے لیے انٹرویو کی درخواست کی گئی مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

البتہ اسرائیلی فوج کے سابق ترجمان اورعسکری معاملات کے ماہر جونیتھن کنریکس کا کہنا ہے کہ گنجان آباد شہری علاقے میں گن فائٹ کے واقعے کی کڑیاں جوڑنا پیچیدہ ترین کام ہے۔

ان کے بقول فرانزک شواہد جیسا کہ گولی، حتمی نتائج پر پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پروپیگنڈے کے لیے تحقیقات میں تعاون سے انکار کر رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے ہفتے کے اختتام پر ان افسران کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں جنہوں نے ابو عاقلہ کے جنازے میں شریک افراد پر دھاوا بولا تھا جس سے ان کا تابوت گرتے گرتے بچا تھا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں