اقوام متحدہ،امریکااوریورپی یونین کااسرائیل سےشیرین ابوعاقلہ کےقتل کی تحقیقات کامطالبہ
اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ فلسطینی نژاد امریکی صحافیہ شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے ان کی موت کے حالات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مشرقِ اوسط میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کارتورونس لینڈ نے بدھ کے روز مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی مذمت کی ہے۔
ونس لینڈ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ان کے قتل کی فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیلی حکام کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’’میڈیا کارکنوں کو اس طرح کے حملوں میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے‘‘۔
اسرائیل میں امریکی سفیر نے صحافیہ کی ناگہانی موت پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کے حالات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار شیرین ابو عاقلہ بدھ کی صبح اسرائیلی فوج کی مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے پناہ گزین کیمپ میں کارروائی اور اس کی فلسطینیوں سے جھڑپ کی کوریج کر رہی تھیں۔اس دوران میں وہ اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئیں۔ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں جھڑپ میں ایک اور صحافی زخمی ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ ابو عاقلہ کی موت کی ’’شفاف تحقیقات‘‘ کی جانی چاہییں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم دونوں فریقوں کو ان تحقیقات میں حصہ لینے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکیں کہ یہ واقعہ کیونکر رونما ہوا ہے‘‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی شہریوں کا تحفظ اور صحافیوں کا تحفظ امریکا کی اولین ترجیح ہے‘‘۔
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا:’’مغربی کنارے میں امریکی شہری صحافیہ شیرین ابو عاقلہ کے قتل سے ہمارا دل ٹوٹ گیا ہے اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعہ کی فوری اور مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔ ان کی موت ہر جگہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کی تذلیل ہے‘‘۔
یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس نے ایک بیان میں کہا:’’یہ ضروری ہے کہ مکمل اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے ان واقعات کے تمام حالات کو جلد از جلد واضح کیا جائے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے وقت نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ تنازعات کے حالات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہر وقت تحفظ مہیا کیا جانا چاہیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا‘‘۔
قطر کے ملکیتی الجزیرہ نیٹ ورک نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے اس کی خاتون رپورٹر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور انھیں قتل کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے کہ جنین میں صحافیوں کو فلسطینی مسلح افراد نے نشانہ بنایا ہے۔