’’منارا‘‘ نے چراغ راہ گذر سے فلسطینی نوجوانوں کو نئی منزل دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

فلسطینی نوجوانوں اور خواتین کے لیے بطور خاص ''منارا '' کے اہداف اور انداز کار کو دیکھا جائے تو جہاں بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے:

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

وہیں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں تبدیل شدہ فلسطین سے نہیں تو کم از کم بدلے ہوئے فلسطینیوں سے ضرور ملاقات کا امکان بڑھ جائے گا۔ ''منارا '' نے اپنے اس کام کو "لائٹ ہاؤس'' سے منسلک کیا ہے۔ جس کا اردو میں موزوں ترجمہ چراغ راہ گذر ہے۔ چراغ راہ گذر کو شاعر نے خرد سے تعبیر کیا ہے اور کہا ''خرد سے راہرو روشن بصر ہے۔ '' فلسطینی نوجوانوں کی زندگیوں میں آنے والی یہ تبدیلی اسی طرز اور روشن بصری کی مظہر ہے۔

ایسا ماحول جس میں تشدد ہو، عدم استحکام ہو، خوف ہو تو فلسطینی نوجوانوں کو اس سے الگ کرنے اور نکال نکال کر ایسی جگہ کی طرف رہنمائی کرنے میں یہی ''منارا'' کا یہی چراغِ راہ گذر بروئے کار ہے۔

’’منارا '' نام کی تنظیم کی شریک بانی لیلی ابو داحی نے ''العربیہ'' سے بات کرتے ہوئے کہا: ''ہمارا مشن ہی ایک چراغ راہ گذر بن کر ان فلسطینی نوجوانوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ جو اپنا کیرئیر بنانا چاہتے ہیں اور ٹکنالوجی کے میدان میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاکہ اپنے مستقبل کو امن کے ساتھ جوڑ سکیں۔ ایسی منزلوں کو پا سکیں جہاں امن، خوشیوں اور ہم آہنگی کو اقدار کے طور پر دیکھا اور مانا جاتا ہو۔

''ہم نے انجینیروں کی ایک ''گلوبل کمیونٹی'' بنائی ہے۔ جو لوگ ٹھیک وقت پر اس کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں، ہم انہیں اس کی ممبر شپ پیش کرتے ہیں۔'' مزید کہا ''ہمیں امید ہے کہ ہم بڑی بڑی کمپنیوں اور باصلاحیت نوجوانوں کے درمیان فاصلوں کو پل بن کر ختم کر دیں گے۔ خصوصا خواتین کو ٹیکنالوجی کے میدان میں لا کر یہ مشن پورا کریں گے۔'

لیلی ابوداحی کے بقول ''آج ٹیکنالوجی سے متعلق صنعت کو سب سے بڑا چیلنج ہی یہ درپیش ہے کہ ان کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والی پائپ لائن میں ٹیلنٹ موجود نہیں ہے۔ وہ ٹیلنٹ جس میں تنوع ہو، امتیاز بھی ہو اور امتزاج بھی ۔'' ہارورڈ بزنس ریویو رپورٹ 2020 میں کہا گیا ہے کہ ''ٹیلنٹ کی عدم فراہمی بہت سے مسائل کی بڑی وجہ ہے اور ٹیکنالوجی کے لیے وبائی مرض طاعون کی حیثیت رکھتی ہے۔''

رپورٹ میں چند شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں مردوں کے حق میں پایا جانے والا تعصب ہے۔ یہ تعصب ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات کے شعبے میں بھی پایا جاتا ہے اور پیداوار کے شعبے میں بھی۔''

اس کے برعکس خلیجی ریاستوں کے حوالے سے واشنگٹن میں دو ہزار اٹھارہ میں شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں 40 فیصد خواتین کمپیوٹر سائنسز اور آئی ٹی میں تخصص کرتی ہیں۔ جبکہ ابو داحی کا کہنا ہے کہ ''فلسطین میں کمپیوٹر سائنسز کے گریجوایٹس میں تراسی فیصد خواتین ہیں، اسی طرح کمپیوٹر سائنسز کے بے روزگار گریجوایٹس میں بھی باون فیصد خواتین ہیں ۔"

"منارا" چاہتا ہے کہ وہ اس بڑی تعداد کو اپنے مقاصد کے لیے بروئے کار لائے اور آگے بڑھنے کی محدود اور پابندیوں سے محدود تر خواہش پر اثر انداز ہو۔

’’عزائم اور امنگ محدود ہیں‘‘

جرمنی میں مقیم فلسطینی سافٹ وئیر انجینیر سماح شمہ نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ''فلسطین میں ہمارے و یژن اور کچھ کر گذرنے کی خواہش کے محدود ہونے کی وجہ فلسطینیوں کا ایک بند دنیا میں ہونا ہے۔"

شمہ کا بچپن مغربی کنارے میں گذرا ہے۔ ان کی رہائش اسرائیل کے زیر قبضہ شہر ایرئیل سے محض چند سو گز کے فاصلے پر رہی۔ اس لیے وہ اسرائیل قابض فوج کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں کو مسلسل دیکھ چکی ہیں۔ جس میں تشدد اور فلسطینیوں کے گھروں کی تباہی بھی شامل رہی۔ اس ماحول میں "منارا" نے شمہ کی مدد کی۔

منارا کی شریک بانی لیلی ابوداحی اور الیانا منتوک
منارا کی شریک بانی لیلی ابوداحی اور الیانا منتوک

"منارا" کی یہ خدمات ان سب کے لیے بھی ہیں جو سافٹ انجینئیرنگ کرچکے ہیں اور سافٹ وئیر ڈیزائننگ ان کا مضمون رہا اور وہ آٹھ سال تک کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہں بھی چانس مل سکتا ہے جن کا تجربہ بالکل نہیں ہے۔ ان سب کے لیے منارا کے پاس بہتر مستقبل کے لیے رہنمائی بھی ہے۔ تکنیکی مہارتوں کا موقع بھی اور سرپرستی کے ساتھ ساتھ روزگارکے لیے مدد بھی۔ تاکہ وہ فلسطین سے باہر اپنے کیرئیر کا آغاز کر کے ایک بہتر طرز زندگی کو پا سکیں۔

اس بارے میں شمہ کا کہنا ہے کہ بحیثت مجموعی کمیونٹی اور مینٹورز نے انہیں متاثر کیا ۔ "منارا" میں ہونے والے ''ڈمی انٹرویوز''، مختلف مواقع پر رہنمائی کے لیے ہدایات اور''مانیٹرنگ سیشنز'' بہت کار آمد ہوتے ہیں۔ شمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''صنعتوں سے مینٹورز کا دستیاب ہو جانا اور دنیا کے جید قسم کے ماہرین تک رسائی کر وانا یہ "منارا" ہی کر سکتا تھا۔

 گوگل جرمنی میں کام کرنے والی شمہ: فوٹو بہ شکریہ منارا
گوگل جرمنی میں کام کرنے والی شمہ: فوٹو بہ شکریہ منارا

بائیس سالہ یہ سٹوڈنٹ کہتی ہیں کہ "ان کا فلسطین کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ ہوا۔ یونیورسٹی سرحد کے بہت قریب تھی۔ جب بھی کچھ فلسطین میں ہوتا اس کا فوری اثر یونیورسٹی تک پہنچ جاتا۔ بار ہا ایسا ہوا کہ آنسو گیس کے اثرات کلاس روم تک پہنچتے۔ حتی کہ یونیورسٹی کے کلاس رومز کے اندر تک آنسو گیس کے شیل پھینکے جاتے جبکہ سٹوڈنٹس کلاس میں پڑھ رہے ہوتے۔ اب میرا دفتر لندن میں ہے۔ میں ''میٹا ''میں کام کرتی ہوں۔ میری فلسطینی یونیورسٹی کے کلاس رومز اور اس دفتر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔"

Shahed Amer

گوگل لندن میں خدمات انجام دینے والی شاہدعامر: فوٹو بہ شکریہ منارا
گوگل لندن میں خدمات انجام دینے والی شاہدعامر: فوٹو بہ شکریہ منارا

شروع میں میرے لیے یہ بہت عجیب بات تھی کہ میرے آس پاس کوئی عرب شہری موجود نہ تھا کہ میں تو ساری زندگی عرب لوگوں کے ساتھ رہنے کی عادی ہو چکی تھی۔ جب عید کے روز میری مامول سے ملاقات ہوئی تو یہ میرے لیے خوشگوار سرپرائز تھا۔ ہم نے عید کے روز بطور خاص عربوں کے ہاں بہت مرغوب مکھن لگے بسکٹس کھائے جن میں عام طور پر خشک میوہ جات لگے ہوتے ہیں۔ میں '' منارا '' کو اس کا کریڈٹ دیتی ہوں کی اس کی وجہ سے مجھے ایک ویژن ملا اور مجھے اپنے خوابوں کو عملی شکل دینے کا موقع ملا۔

عرب مردوں اور خواتین کو بااختیار بنانا

یہ "منارا" ہی ہے جس کی وجہ سے فلسطینی ''میٹا'' اور "گوگل" میں ملازمت کرنے کے مواقع پانے لگے ہیں۔ ''منارا" سب فلسطینیوں کے لیے کام کرتا ہے لیکن اس کے کام کا بڑا حصہ عرب خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔ اس کی طرف سے چشم کشا قسم کے وسیع امکانات ہیں جو بیرون ملک عرب خواتین کے لیے ممکن ہو رہے ہیں۔

"منارا" کی ایک اور کامیاب کہانی شاہد عامر کی زبانی سنیے ''مجھے بعض حالات کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی محفوظ جنت سے واپس فلسطین میں اپنے گاوں طولکرم آنا پڑا۔ اگرچہ میرے بچپن اور لڑکپن کا زیادہ وقت امارات میں ہی گذرا تھا۔ واپسی میرے کیرئیر کے حوالے سے اچھی نہ تھا کہ یہاں خطرات اور عدم استحکام کا سامنا تھا۔"

الخلیل کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے باہر اسرائیلی فوج: اے ایف پی
الخلیل کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے باہر اسرائیلی فوج: اے ایف پی

محمد شومان کی پیدائش فلسطین ہی کی ہے۔ ''العربیہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے وہ فلسطین میں گذری زندگی کا بوجھ آج بھی محسوس کرہا تھا۔'' ہر روز صبح و شام دیر تک اسرائیلی چیک پوسٹوں تک باری اور اجازت کا انتظار کرنا سخت اذیت ناک ہوتا تھا'' اب یہ پچیس سالہ شومان متحدہ عرب امارات میں رہتا ہے اور یہاں ای کامرس آپریشنز میں کام کرتا ہے۔ اس کا بس اتنا کہنا ہے کہ '' اگر "منارا" نہ ہوتا نہ جانے وہ کہا ں ہوتا۔ ایک فرد جو فلسطین میں پیدا ہوا ہو، وہیں پلا بڑھا ہو۔ وہ دبئی میں زندگی اور ثقافت کا ہر رنگ پا سکتا ہے۔ حتی کہ وہ کلچر بھی جس کی آپ کو تلاش رہتی ہے۔ا یسا مغربی ممالک میں ہونا مشکل ہے۔ ''

تاہم شمہ اب "گوگل" کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ان کا نکتہ نظر مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے''یہ اہم سہی کہ ہم فلسطین والوں کو دوسری جگہ زندگی کے تنوع میں اضافہ کریں۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ بتائیں فلسطینی، مسلمان اور مشرق وسطی والے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کر سکتے ہیں۔ ہم بھی عام لوگوں کی طرح ہیں۔ انہی کی طرح ہم مہارت رکھتے ہیں۔ آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور محنت کر سکتے ہیں۔ ''

کلیدی مقصد آگاہی دینا

شمہ نے ''منارا'' کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا ''اس کا کلیدی مقصد آگاہی اور شعور دینا ہے۔ ''منارا'' کے تمام گریجوایٹس بیرون ملک ملازمتوں پر تعینات ہوئے ہیں۔ فلسطین سے باہر نکلنے کے بعد ان کے پاس وسیع تجربہ آ چکا ہے۔ انہیں یہ آگاہی ہوئی کہ عالمی معیار کے تقاضے کیا ہیں۔ وہ واپس فلسطین جاتے ہیں تو اپنی اگلی نسلوں کو اپنے ساتھ اپنی آگاہی میں شریک کرتے ہیں۔ تاہم ''منارا'' نے یہ سب کچھ آہستہ آہستہ اور مرحلہ وار کیا ہے۔ "

لیلی ابو داحی کا آبائی علاقہ رفح جہاں انہوں نے آنکھ کھولی
لیلی ابو داحی کا آبائی علاقہ رفح جہاں انہوں نے آنکھ کھولی

شمہ نے العربیہ کو یہ بھی بتایا کہ وہ رفح شہر میں غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب اور مصر سے متصل ایک مہاجر کیمپ میں رہی ہیں۔ ''رفح میں رہتے ہوئے میں نے دیکھا میری دادی میرے خاندان کی پہلی کاروباری فرد تھیں۔ انہوں نے مہاجر کیمپ میں ایک مکان خریدا، اس میں تین گائے رکھیں اور ان کا دودھ مہاجر کیمپ میں فروخت کرنے لگیں۔ ''

ابو داحی کی زندگی کا آغاز بھی مشکلات میں ہی ہوا تھا۔ ان کے بقول''میں اقوام متحدہ کے ادارے ''انروا '' کے مہر لگے کھانوں سے بڑی ہوئی۔ میں''انروا '' کے بنائے سکول میں پڑھی اور اسی کے ہسپتال سے دوائی لیتی تھی۔'' لیکن ان کا کہنا تھا کہ "ان سب مشکلات کے باوجود میں نے اپنی تعلیم متاثر نہ ہونے دی۔ غزہ سے بی ایس کرنے کے دوران امتیازی نمبروں سے ڈگری لینے کے عزم نے انہیں ''فل برائٹ سکالرشپ'' تک کامیابی دلائی اور تعلیم کے لیے واشنگٹن پہنچ گئی۔''

محمد شومان منارا کے توسط سے دبئی میں جاب کر رہے ہیں: فوٹو بہ شکریہ منارا
محمد شومان منارا کے توسط سے دبئی میں جاب کر رہے ہیں: فوٹو بہ شکریہ منارا

مشکل ترین چیلنج کے بارے میں ابو داحی نے کہا وہ لوگوں کے ''مائنڈ سیٹ'' کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ مسئلہ غزہ میں زیادہ پیش آیا۔ وہاں کے سٹوڈنٹس باصلاحیت بھی تھے اور اعلی تعلیم یافتہ بھی مگر انہیں اپنے اوپر یقین نہ تھا ۔ خواتین تو اس سلسلے میں '' منارا '' کے ہاں اپلائی کرنے کو بھی تیار نہ ہوتی تھیں۔ انہیں قائل کرنے میں ہمارے ''مینٹورز'' کو کئی کئی گھنٹے لگ جاتے تب جا کر وہ اپلائی کرنے پر قائل ہوتیں۔ ''

انہوں نے دوسرے بڑے چیلنج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ''مشرق وسطی کی ''ری برینڈنگ" کا چیلنج تھا۔ گویا اس کا تعارف اور شناخت کی تبدیلی مشکل کام تھا۔ یہ خطہ بس جنگوں سے جڑ کر رہ گیا ہے۔ یہاں کے لوگ اجڑ اجڑ کر بے خانماں ہونے کے لیے رہ گیا ہے۔ ''

A Manara community meeting in Palestine

فلسطین میں ہونے والی منارا کیمونٹی میٹنگ
فلسطین میں ہونے والی منارا کیمونٹی میٹنگ

گویا فلسطین اور مشرق وسطی کے جن علاقوں میں رہنے والے جو بالعموم گولی کی زد میں رہتے تھے۔ اب انہیں گولی کے بجائے گڑ ملنے لگا ہے۔ خوشحالی کی وجہ سے گڑ سے آگے بڑھتے ہوئے بتاشے بھی ملنے لگے ہیں۔ یہی تبدیلی کا سفر ہے جو ''منارا'' نے شروع کیا تھا اور اب آگے بڑھا ہے۔ منظر تبدیل ہو رہا ہے ۔ ماحول بدل رہا ہے۔ ترجیحات اور اہداف میں فرق آرہا ہے، یہ سب کچھ اب گولیوں سے نہیں گڑ سے ہو رہا ہے۔ یہی تبدیلی ہے، یہی ہدف اور یہی منزل۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں