یوکرین میں سزائے موت پانے والے مراکشی نوجوان کے والد کی روسی صدرپوتین سے اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین سے الگ ہونے والے روس کے حمایت یافتہ علاقے میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے مراکشی نوجوان کے والد نے روسی صدر ولادی میرپوتین سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی جان بچانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت کریں۔

طاہرسعدون نے یہ اپیل اپنے بیٹے ابراہیم سعدون کی جانب سے کی ہے۔اس مراکشی نوجوان کو جون کے اوائل میں غیر تسلیم شدہ عوامی جمہوریہ دونیتسک (ڈی این آر) میں حکام نے دو برطانوی افراد کے ساتھ سزائے موت سنائی تھی۔

طاہرسعدون نے رباط میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’میں روسی صدر میرپوتین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے ناتے اورغیرسرکاری ذرائع سے بطور باپ انسانیت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کریں‘‘۔

روس یہ الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے کہ اس کی فوج کے پڑوسی ملک یوکرین پر حملے کے بعد دوسرے ممالک سے بڑی تعداد میں مسلح افراد کرائے کے فوجی کے طور پر خدمات انجام دینے کے آئے تھے اور ان میں سے بہت سے افراد کو روسی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔ان تینوں نوجوانوں کو بھی پکڑنے کے بعد حکام نے موت کی سزا سنائی ہے۔

اس سے قبل مراکشی والد طاہر کَہ چکے ہیں کہ ان کا بیٹا کرائے کا فوجی نہیں بلکہ اس نے 2020 میں یوکرین کی شہریت حاصل کی تھی۔انھوں نے اپنے بیٹے کو’’ہیرا پھیری کا شکار‘‘قراردیا تھا۔

انھوں نے مراکش کے وزیراعظم عزیز أخنوش کی حکومت سے بھی اپیل کی ہےکہ ’’وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور اس ضمن میں ہرضروری اقدام کرے‘‘۔

یوکرین میں زیرحراست نوجوان کے والد مراکش کی نیم فوجی فورس کے سابق اہلکار ہیں اور وہ محکمے کے ریٹائرڈ تفتیش کار ہیں۔ انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مراکشی حکام ان کے بیٹے کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے اور نہ انھیں اب یہ معلوم ہے کہ رباط نے ماسکو یا دونیتسک میں خود ساختہ علاقائی حکام سے کوئی رابطہ کیا ہے یا نہیں۔

مراکش کی حکومت نے 13جون تک اس معاملے پرکوئی تبصرہ نہیں کیا تھا اور یوکرین میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے کہا تھا کہ ابراہیم سعدون کو’’یوکرین کے بحری یونٹ کے رکن کی حیثیت سے ریاستی فوج کی وردی پہنے پکڑا گیا تھا‘‘۔

تب بیان میں کہا گیا تھا کہ ’’انھیں ایک ایسے ادارے نے قید کررکھاہے جسےاقوام متحدہ اور نہ ہی مراکش تسلیم کرتا ہے‘‘۔والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے 2021ء میں یوکرینی بحریہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ تو احکامات کی پیروی کر رہا تھا۔

مراکش کے انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس نوجوان کوبچانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔انھوں نے اس کی صحت پربھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں