سعودی اونٹ فیسٹول میں پہلی مرتبہ خاتون کو جیت کا انعام دیا جائیگا

جیت کا احساس بہت خوبصورت، خوشی سے مغلوب ہوں: المھیدب کی ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کنگ عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول کے ساتویں ایڈیشن میں خواتین کی ریس کا نام بدل کر شہزادی نورۃ بنت عبدالرحمن ریس رکھ دیا گیا۔ اس مقابلہ میں فتح حاصل کرنے والی خاتون اختتامی تقریب کے سپانسر سے انعام وصول کریں گی۔ اس اقدمام ن نے ریس کو ایک الگ رنگ دے دیا ہے۔ اس سے دلکش ثقافتی ماحول پیدا ہوا۔ خواتین کی مقابلہ میں شرکت اور انعام حاصل کرنے کا عمل ثقافتی ورثہ اور معاشرے کے تمام گروہوں کی ایونٹ میں دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
حال ہی میں ختم ہونے والے فیسٹیول میں "نورہ المھیدب" یہ راؤنڈ جیتنے میں کامیاب رہی اور انہوں نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا میں بہت خوبصورت محسوس کر رہی ہوں اور میں پہلی سعودی خاتون کے طور پر خوشی سے مغلوب ہوں کہ اس میلے میں فیسٹیول کے سپانسر کی طرف سے اعزاز حاصل کیا جائے۔
نورہ نے وضاحت کی کہ اس کے جیتنے کی سب سے بڑی ترغیب اور محرک خواتین کی دوڑ کا نام شہزادی نورہ کے نام پر رکھنا تھا کیونکہ وہ اسے خواتین کے مقام کی تعریف اور شہزادی کے کردار کو برقرار رکھنے کا اقدام سمجھتی ہیں جو خاتون اول تھی ۔ ان کے ذمہ کئی کام سپرد تھے، وہ اپنے بھائی عبد العزیز کی مشیرہ اور قابل اعتماد دوست بھی تھیں۔ شاہ عبد العزیز انہیں تسلی دیتے تھے اور کہتے تھے ’’ میں نورہ کا بھائی ہوں‘‘
المھیدب نے انکشاف کیا کہ اونٹوں کے ساتھ اس کا رشتہ پہلے مقابلہ اور تجارت سے آگے نہیں بڑھتا تھا۔ تاہم پھر یہ شوق اور محبت میں بدل گیا۔ میرے خاندان کے افراد کا اونٹوں سے تعلق قدیم تھا۔ میں نے اونٹ کے عجیب خصائص دیکھے اور اس میں تمام مخلوقات سے الگ خصوصیات کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ جانور ہے جس کا قرآن مجید میں 7 مقامات پر تذکرہ کیا گیا ہے۔
نورہ المھیدب نے مزید کہا میں نے گزشتہ برس بھی مقابلہ میں حصہ لیا تھا لیکن میری تیاری مکمل نہیں تھی۔ اس سال میں میں نے دوبارہ حصہ لینے کو ترجیح دی۔ اس مرتبہ میں پوری طرح تیار تھی اور میں نے مقابلہ جیتنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

مقبول خبریں اہم خبریں