ترکیہ زلزلہ

شارلی ایبڈوکوطنزیہ کارٹون میں ترکیہ اورشام میں زلزلے کامذاق اڑانے پرکڑی تنقید کاسامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی جریدے شارلی ایبڈو کوایک طنزیہ کارٹون میں ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کا مذاق اڑانے پرکڑی تنقید کا سامنا ہے اور اس غیرحساس کارٹون کی عالمی سطح پرمذمت کی جارہی ہے۔

نسل پرستانہ اور بے حس طنزیہ کارٹونوں کے لیے بدنام میگزین نے سوموارکو علی الصباح 7.8 کی شدت کے زلزلے کے چند گھنٹے کے بعد اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر اپنا ’کارٹون آف دی ڈے‘ شیئرکیا تھا۔

اس کارٹون میں تباہ شدہ عمارتوں،ایک گرتی ہوئی کار اورملبے کی پہاڑیوں کو دکھایا گیا تھا اور ساتھ لکھا گیا تھا:’’ترکیہ میں زلزلے،[اب مجھے] ٹینک بھیجنے کی ضرورت نہیں‘‘۔

تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں مہلوکین کی تعداد ساڑھے 11 ہزارسے تجاوزکرگئی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جبکہ امدادی کارکن منہدم عمارتوں کے نیچے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

شارلی ایبڈو کے اس کارٹون کی اشاعت پرسوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اورمعروف عوامی شخصیات سمیت بہت سے لوگوں نے فرانسیسی جریدے کے اس فعل کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو اسلاموفوبیا کا شاخسانہ قراردیا ہے۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالین نے ٹویٹرپر اپنی مذمت کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ’’'جدید وحشی! اپنے غصے اور نفرت میں ڈوب جاؤ‘‘۔

ترک سیاست دان اورحکمران آق پارٹی کے لندن میں نمائندے عبدالرحیم بوینوکالین نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ ’’وہ تنازعات پیداکرنے میں کوئی حد نہیں دکھاتے ہیں‘‘۔

ٹویٹرصارف @QasimRashid کا کہنا تھا کہ ’’ترکیہ اور شام میں 500 سال سے زیادہ عرصے میں اس تباہ کن زلزلے میں 7100 (اب 11500) سے زیادہ افراد فوت ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ ترمسلمان ہیں۔سفید فام بالادستی کا یہ گھناؤنا راگ مسلمانوں کی اجتماعی موت کا جشن مناتا ہے۔یہ فرانسیسی نسل پرستی کا بھرپورمظاہرہ ہے‘‘۔

پاکستان کی سابق وفاقی وزیرشیریں مزاری لکھتی ہیں:’’نفرت اوراسلاموفوبیا اپنے عروج پر ہے جب کسی قدرتی آفت پرشارلی ایبڈوکی طرف سے اس طرح کا ردعمل ظاہرہوتاہے،ہمیں بنیادی طورپر بیماریورپ سے مذمت کی آوازیں سننے کا انتظار ہے‘‘۔

ٹویٹر صارف @Abdulla_Alamadi نے لکھا کہ ’’دوسروں کے مصائب کا مذاق اڑانا اور صحافت کی اخلاقیات سے کوسوں دوررہنا واقعی قابل نفرت ہے‘‘۔

شارلی ایبڈوکے ٹویٹراکاؤنٹ پرشیئرکیے گئے ’کارٹونزمیں اسلاموفوبیا کا جائزہ' کے عنوان سے 2018 میں ایک تحقیق کی گئی تھی۔اس میں 13 اگست 2009 سے 15 اکتوبر2018 تک شائع شدہ خاکوں کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ان کے نتائج سے پتاچلا تھا کہ 6123 میں سے 38 ٹویٹس مسلم مخالف نوعیت کی تھیں اور ان میں اسلام کو ایک ایسے مذہب کے طورپرپیش کیا گیا تھا جو انحراف اوردہشت گردی سے وابستہ ہے۔

یہ فرانسیسی جریدہ متنازع کارٹونوں اور مضامین کی اشاعت کی وجہ سے ہمیشہ تنازعات کا مرکزرہا ہے۔اس کے مواد کوبہت سے لوگ خاص طورپرمذہبی گروہوں کے خلاف قابلِ اعتراض اورتوہین آمیز سمجھتے ہیں۔اس نے ماضی میں پیغمبراسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکے، مردہ بچوں، وائرس سے متاثرہ افراد، پاپائے روم، یہودی رہ نماؤں اور سنہ2020ء میں ترک صدررجب طیب ایردوآن کی توہین والے کارٹون شائع کیے تھے۔

سنہ 2015ء میں پیغمبراسلام ﷺ کے توہین پرمبن کارٹون کی اشاعت کے ردعمل میں پیرس میں شارلی ایبڈو کے دفاترپردہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں