کون کون سے ای سگریٹ اسقاط حمل کا باعث بنتے ہیں

تحقیق کے مطابق مینتھول کے ساتھ ذائقہ والے الیکٹرانک سگریٹ ڈی این اے کو نقصان اور خلیوں کی موت کا باعث بنتے ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حمل کے دوران سگریٹ نوشی خواتین کے لیے خطرناک ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں روایتی سگریٹ کے کچھ متبادلات جیسے الیکٹرانک سگریٹ کے بعض ذائقوں کو بھی مضر صحت پایا گیا ہے۔

تحقیق میں سائنس دانوں نے الیکٹرانک سگریٹ کے کچھ ذائقوں کی نشاندہی کی کہ جن سے اسقاط حمل کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

جرنل آف پریونٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا کہ جو خواتین پودینہ اور مینتھول کے ذائقوں کے ساتھ ای سگریٹ پیتی ہیں ان کے رحم میں جنین ضائع ہونے کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

یہ دیکھنے کے لیے کہ نیکوٹین ان پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے ، امریکی محققین نے 600 حاملہ خواتین کی نگرانی کی، جن میں سے بعض نے اپنے حمل کے دوران ای سگریٹ پیے تھے۔


اس تحقیق میں تمباکو نوشی کرنے والی خواتین اور تمباکو نوشی نہ کرنے والی خواتین کے درمیان زیادہ فرق نہیں سامنے نہیں آیا، تاہم ای سگریٹ کے ذائقے تبدیل ہونے پر نمایاں طور پر خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ جو خواتین حمل سے پہلے یا دورانِ حمل پودینہ اور مینتھول مرکب ذائقوں کے ساتھ ای سگریٹ پیتی تھیں ان میں اسقاط حمل کا خطرہ باقی ذائقوں کے مقابلے میں 227 فیصد تک بڑھ گیا تھا۔

تحقیق میں پودینہ اور مینتھول ذائقے والے ای سگریٹ کے نتیجے میں اسقاط حمل کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ کی وضاحت نہیں کی گئی۔

لیکن برطانوی اخبار "دی سن" کے حوالے سے ماہرین نے اس کی وضاحت سابقہ ​​مطالعات کی بنیاد پر کی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ مینتھول سے بھرپور ای سگریٹ ڈی این اے کی تباہی اور خلیوں کی موت کا باعث بنتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں