ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم کو ایک نیا پیغام بھیجا ہے، جس میں انہوں نے لبنانی تنظیم کے لیے تہران کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ان کے دفتر اور مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ اس پیغام میں خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ تہران جن باتوں کو "حزب اللہ کا دفاع" قرار دیتا ہے وہ اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنانی سرزمین کی سالمیت کا تحفظ اور جسے وہ "اسرائیلی جارحیت" کہتے ہیں اس کا مکمل اور بلا مشروط خاتمہ، اس پیغام کے مطابق امریکہ کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق کسی بھی سمجھوتے کے لیے بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔
خامنہ ای نے مزید کہا کہ نعیم قاسم اور حزب اللہ کے اہل کاروں کا خط "استقامت و ثبات" اور ایران کے بانی روح اللہ خمینی نیز تنظیم کے سابق سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے اصولوں سے وابستگی کا مظہر ہے، جیسا کہ پیغام میں بیان کیا گیا ہے۔
ایرانی رہبر نے امریکہ اور اسرائیل پر "جبر اور ظلم" کے الزامات بھی عائد کیے۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم اور تنظیم کے جنگجوؤں کی جانب سے خامنہ ای کو بھیجا گیا ایک خط نشر کیا تھا، جس میں ان سے وفاداری کی تجدید کا اعلان شامل تھا۔
ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کی خلاف ورزی نے "امریکہ کے صدر کے دستخط کی بے وقعتی اور عدم اعتبار" کو ثابت کر دیا ہے۔ یہ بات امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی شدت میں اضافے کے بعد سامنے آئی۔
گذشتہ مارچ میں اپنے مقرر ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر نہ آنے والے مجتبیٰ نے اندرونِ ملک کے لیے بھی ایک پیغام بھیجا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ "اتحاد کو برقرار رکھنا، تفرقے و تصادم سے گریز، سیاسی اختلافات اور سماجی تفریق کو ابھارنے سے دور رہنا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے"۔ ان کے نزدیک "ملک کے استحکام اور اتحاد کو برقرار رکھنے میں" ایرانی عہدیداروں کی ذمہ داری زیادہ اہم اور حساس ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی نظام کے تیسرے رہبر مقرر کیے جانے کے بعد سے علانیہ طور پر سامنے نہیں آئے ہیں اور نہ ان کا کوئی صوتی یا تصویری پیغام جاری ہوا ہے۔ ان سے منسوب پیغامات صرف ان تحریری بیانات تک محدود ہیں جو گذشتہ فروری میں ہونے والے اس حملے کے بعد سے سامنے آئے جس میں وہ زخمی ہوئے اور ان کے والد و پیشرو علی خامنہ ای مارے گئے تھے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پردے کے پیچھے کے حقائق اور تہران میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک ایسے بیان میں اعلان کیا کہ ان کی ایرانی رہبر سے ملاقات نہیں ہوئی ہے جس نے ملک کے اندر ایک وسیع بحث چھیر دی۔
مجتبیٰ کی طویل عدم موجودگی نے ملک کے امور چلانے میں ان کے عملی کردار کی حد سے متعلق بڑھتے ہوئے سوالات کو جنم دیا ہے اور اس بحث کو بھی بڑھا دیا ہے جس کا ایرانی نظام کو سامنا ہے۔