صرف ذہین لوگوں کے لیے،اماراتی خلاباز کا کشش ثقل کے بارے میں صارفین سے دلچسپ سوال!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا صارفین متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی کے "صرف سمارٹ لوگوں کے لیے" کے عنوان سے کشش ثقل کی عدم موجودگی میں اشیاء کی حرکت کے بارے میں ایک سوال سے الجھے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے تعلق رکھنے والے النیادی نے سوموار کو ٹویٹر پر ایک ویڈیو کے ذریعے اجسام فلکی کی حرکت کے بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اجسام فلکی یا تو بائیں سے دائیں یا اوپر سے نیچے کی طرف گھومتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں حرکت اسی سمت میں جاری ہے.

النیادی نے وضاحت کی کہ تیسری گردش یا تو اوورلیپنگ انداز میں ہوتی ہے جس میں جسم کی سمت دائیں سے بائیں یا اس کے برعکس یا نیچے سے اوپر کی طرف تبدیل ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنے’ٹویٹر‘ فالورز سے اس معاملے کے پیچھے چھپی وجہ دریافت کی اور ساتھ ہی وضاحت کی کہ اجسام فلکی کی حرکت کا یہ اصول زمین پر بھی آزمایا جا سکتا ہے۔

صارفین کیا کہتے ہیں؟

اماراتی خلا باز النیادی کے استفسار پر’ٹویٹر‘ پرملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے اور کارکنوں نے سوال کا اپنی دانست اور فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ "یہ ممکن ہے کہ زمین کی کشش ثقل کی طرح مصنوعی کشش ثقل پیدا کرنے والی گاڑی کا اثر کیبن کے اندر ایک پائیدار عمودی قوت ہو اور ہمیں لگے کہ گردش اسی طرح ہوتی ہے‘‘۔

ایک اور نے کہا کہ "گردش میں فرق کمیت کے مرکز سے گردش کے محور میں فرق کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔"

ایک صارف نے جواب دیا کہ "تیسری حرکت میں وزن ہر طرف برابر نہیں ہوتا کیونکہ کیمرے کا زاویہ باقی زاویوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے اور یہ گردش کو متاثر کرتا ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ "کریو 6" مشن کے عملے نے گذشتہ جمعرات (3 مارچ) کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب سفر کیا تھا، جس میں عرب تاریخ کے طویل ترین خلائی مشن میں اماراتی خلاباز سلطان النیادی سمیت 4 افراد شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں