مراکش کی امیر کبیر بھکارن جو جائيدادوں، بینک بیلنس اور سوئس شہریت رکھتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"امیر کبیر بھکارن" کہلانے والی خاتون کی کہانی مراکش میں ان دنوں بڑے پیمانے پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

اس ہفتے، مراکش کی ایک عدالت نے بھکاری کا روپ دھارنے والی ایک خاتون کو فراڈ کے الزام میں قید کی سزا سنائی، جب یہ انکشاف ہوا کہ اس کے پاس بے پناہ مال و دولت اور متعدد جائیدادیں ہیں۔

اسے مراکش کے جنوب میں واقع شہر اکادیر میں حفاظتی مہم میں بھکاریوں پر کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

عدالتی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بھکاری خاتون ایک پوش علاقے میں دو مکانات اور جائیداد کی مالک ہے اور بینک بیلنس رکھتی ہے، اور یہ کہ اس کے پاس مراکش اور سوئٹزرلینڈ کی قومیت ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے اس سے دو سال قبل بھی مراکش میں ایک بھکاری کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایک ویڈیو میں وہ بھیک مانگنے کے بعد اپنی لگژری کار کی طرف گئی جہاں اس نے اپنے پھٹے پرانے کپڑے بدل کر پرتعیش لباس پہنا اور چلی گئی۔

سماجی ذرائع ابلاغ پر مراکشی شہریوں نے ملک میں بھیک مانگنے اور دھوکہ دہی کے ذریعے مادی منافع حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی مذمت کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے مہمات اور حفاظتی نگرانی کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایک سماجی کارکن شاوکی اولیوان نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ "دولت مند بھکاری" کی کہانی مراکش میں بھیک مانگنے کا رجحان لوٹنے اور منافع بخش تجارت کے عمل میں تبدیل ہونے پر روشنی ڈالتی ہے۔

ایکٹیوسٹ محمد الہنودی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ "مراکش میں بھیک مانگنے کا رجحان پریشان کن ہو گیا ہے، جہاں زیادہ تر بھکاری بھیک مانگنے کو ایک منافع بخش اور آرام دہ پیشہ کے طور پر اپناتے ہیں"

انہوں نے لکھا کہ حالیہ دنوں میں بھیک مانگنے کا طریقہ بدل گیا ہے، بھکاریوں نے لوگوں پر دباؤ ڈالنا اور اصرار کرنا شروع کردیا ہے جو بعض اوقات اشتعال انگیزی تک پہنچ جاتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ قانون سازی "بھکاریوں کی بھیڑ کو روکنے میں مددگار ثابت نہیں ہورہی "

مراکش میں ضابطہ فوجداری ہر اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے جواز فراہم کرتا ہے جس کے پاس روزی کمانے کا ذریعہ ثابت ہو گیا ہو یا وہ اسے کام کرنے اور کسی قانونی طریقے سے کمانے کے قابل ہو۔ اور آرٹیکل 326 ،327 اور 328، کے تحت اس کی خلاف ورزی کی سزا ایک سے چھ ماہ تک قید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں