سعودی سیاحت

سعودی عرب:بحیرۂ احمرمنصوبہ؛سیاحت کے بڑے عالمی مقام کے طور پرکھلنے کوتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
15 منٹ read

سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے میگا سیاحتی منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کھلنے میں چھے سال باقی ہیں۔ سیاحت کے اس میگا پروجیکٹ پرکام کرنے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ اس سال اس منصوبے کے ہوٹلوں کا ہر کمرا فروخت ہو جائے گا کیونکہ سعودی اور بین الاقوامی سیاح پائیدار لگژری منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

2017ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تین گیگا منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی۔ان میں سے ایک بحیرۂ احمر کا سیاحتی منصوبہ تھا۔یہ مملکت کے مغربی ساحل کے ساتھ 28،000 مربع کلومیٹر کا ایک وسیع سیاحتی مقام ہے۔

اس سال کھلنے والے لگژری ہوٹل

2023ء میں جو فاسٹ ٹریک ہوٹل تعمیر کیے گئے ہیں اور اس سال کھل رہے ہیں،ان میں سینٹ ریجس ریڈ سی ریزورٹ ، نوجوما رٹز کارلٹن ریزرواور سِکس سینس سدرن ڈونزشامل ہیں۔اس سیاحتی مقام کا وقف ہوائی اڈا اپنی افتتاحی پرواز شروع کرنے کوتیار ہے اور سعودی عرب اربوں ڈالر کے اس منصوبے میں ہزاروں ملازمین کی بھرتی اور ان کے تربیتی عمل سے گزررہا ہے۔

بحیرۂ احمرگلوبل ایک لیمٹڈمشترکہ اسٹاک کمپنی ہے جو مکمل طور پر سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کی ملکیت ہے۔ یہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے عزائم کا ایک سنگ بنیاد ہے جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے کو پائیدار طور پر ترقی دے کر اپنی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔

بحیرۂ احمر گلوبل کے سی ای او جان پگانو نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ لگژری ہوٹلوں میں سے پہلا موسم گرما کے اوائل میں کھولا جا سکتا ہے۔ تینوں ہوٹل 2023 کے آخر تک کھلیں گے، اس کے بعد اگلے سال مزید 13 ہوٹل کھلیں گے۔

ایک مرتبہ مکمل ہونے کے بعد ، بحیرۂ احمر کے منصوبے میں قریباً 80 ہوٹل ہوں گے ، جس میں 11،000 سے زیادہ کمرے ہوں گے۔پگانو نے اعتراف کیا کہ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے۔

انھوں نے کہا، "یہ ایک بہت ہی پرجوش منصوبہ ہے۔ ''لیکن میں اس کو 11,000 کمروں کےسیاق و سباق میں رکھتا ہوں۔ یہ تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کا ملک ہےاور تفریحی سیاحت کا ماضی قریب تک کوئی وجود نہیں تھا۔

انھوں نے بتایاکہ ہم نے مسابقت کے معاملے میں صفر سے آغاز کیا۔ہوٹل کے کمرے بہت زیادہ ہے، لیکن اس سطح کی ترقی کی حمایت کرنے کے لیے کوئی مقابلہ اور کافی مانگ نہیں ہے۔ان کے بہ پہلے تیارہونے والے ہوٹلوں کا انتخاب ان کی اعلیٰ درجے کی اپیل پر کیا گیا تھا۔

بحیرۂ احمر کے کنارے واقع سِکس سنس
بحیرۂ احمر کے کنارے واقع سِکس سنس

سکس سینس سدرن ڈونز میں 76 کمرے ہوں گے،نجی جزیرے پر واقع سینٹ ریجس ریڈ سی ریزورٹ میں 90 ولازہوں گے۔ امات جزائر پر واقع لگژری نوجوما رٹز کارلٹن ریزرو میں 82 ولاز ہوں گے۔ان میں سطح آب اور بیچ ولاز بھی شامل ہیں۔

پگانو نے کہا:’’جب رٹز کارلٹن کی بات آتی ہے، تو دنیا میں صرف چند 'رٹز کارلٹن ریزرو' موجود ہیں۔ہم بہت خوش ہیں کہ وہ بحیرۂ احمرمیں کھلیں گے۔ہم ابھی ان جائیدادوں کو آپریٹنگ کمپنیوں کے حوالے کرنے کے عمل میں نہیں ہیں۔ لہٰذا، میرے خیال میں پہلا جون یا جولائی میں شروع ہوگا اور پھراگست اوراکتوبر کے درمیان، باقی اس کے بعد شروع ہوں گے‘‘۔

انھوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ تینوں ہوٹل فروخت ہوجائیں گے کیونکہ لگتا ہے کہ مانگ رسد سے کہیں زیادہ ہو جائے گی۔پگانو کے مطابق، 2023 بحیرۂ احمر کے منصوبے کے لیے ایک "بہت خاص لمحہ" ہے۔یہ ہمارے خواب اور وژن کی تعبیر ہے۔ ہم نے تنظیم (بحیرۂ احمر گلوبل) بنائی، ہم منصوبوں اور آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں، پھر ان کی تعمیر شروع کرتے ہیں اور اب انھیں عملی جامہ پہنانا اطمینان بخش ہے۔ خاص طور پر کووِڈّ-19 اوراس کے نتیجے میں سپلائی چین میں خلل کے پس منظر میں ایسا کرنا، لیکن پھر بھی، ہم اپنا راستہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سیاحتی منصوبہ کےوقف ہوائی اڈے کا افتتاح

سیاحتی مقام کی منصوبہ بندی کا ایک حصہ رسائی کو یقینی بنانا ہے جس کی وجہ سے بحیرۂ احمر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے (آر ایس آئی) کی ترقی ہوئی۔ یہ 90 سے زیادہ غیر چھوئے ہوئے جزیروں، ساحلوں، آتش فشاں، صحرائی ٹیلوں، پہاڑی وادیوں اور تاریخی ثقافتی مقامات کا دورہ کرنے والے سیاحوں کو سفری خدمات مہیا کرے گا۔

آر ایس آئی 2030 تک ہر سال ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی خدمت کرنے کے قابل ہوگا۔یہ ہوائی اڈا مکمل ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ موسم گرما میں اپنی پہلی پرواز کا آغاز کرے گا۔

پگانو نے بتایا:’’توقع ہے کہ یہ جولائی میں کھل جائے گا۔یہ پہلے ہمارے اپنے سی پلین ٹرمینل کے ساتھ کھلے گا،پھرہم اپنے مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے مرکزی ٹرمینل کھولیں گے‘‘۔

آر ایس آئی سب سے پہلے سعودی عرب کے اندرون میں پروازیں چلائی جائیں گی اور بین الاقوامی روٹس کے لیے پہلے ہی دنیا بھرکی کئی بڑی فضائی کمپنیوں کے ساتھ "بات چیت" کی جارہی ہے۔

منصوبہ کی پائیداری

پگانوکو 2018 میں اس منصوبے کی نگرانی اور سعودی ولی عہد کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقررکیاگیا تھا۔انھیں جو پہلا لفظ دیاگیا وہ "پائیداری" تھا۔

پگانو نے العربیہ کومزیدبتایاکہ "ہمیں اپنی ماحولیاتی حد کے اندرترقی کو متوازن کرنا پڑا کیونکہ ہم اس خوب صورت اور قدیم ماحول سے مستفید ہو رہے ہیں۔ "اور آج ہم سال پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوشیار ہیں۔ ہم نے سیکھا ہے کہ ہم نے کچھ خوف ناک غلطیاں کی ہیں لہٰذا ہم نے اس کاآغازاپنے رہ نما اصول کے طور پر کیا کہ ہم ان غلطیوں کو نہ دہرائیں اور جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے محفوظ رکھیں تاکہ آنے والی نسلیں اس سے لطف اندوز ہوسکیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’بحیرۂ احمر شاید دنیا کے آخری پھلتے پھولتے نظاموں میں سے ایک ہے اور لہٰذا ہم اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیرمعمولی اقدامات کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہاکہ شاہی خاندان کی ہدایات پرتوجہ دی گئی ہے اور ان کے مطابق ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں اس ماحول سے لطف اندوزہوں۔ تویہی پیغام تھالیکن پائیداری ہونی چاہیے اورتاریخی جگہوں اور چیزوں کو جوں کاتوں برقرار رکھا جائے۔

پگانو نے کہا کہ اس میں بہت سے وعدے شامل ہیں جو پہلے ہی عمل میں لائے جا رہے ہیں ، جس میں نئی مرجان کی چٹانوں کی تعمیر، اپنے آپریشنز میں نیٹ زیرو تک پہنچنا ، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا شامل ہے کہ پورے منصوبے کو قابل تجدید توانائی سے چلایا جائے گا۔اس سے سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا بیٹری اسٹوریج سسٹم تیار کرے گا تاکہ وہ یہ کارنامہ انجام دے سکے۔

اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مینگرووز کے درخت لگانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔منصوبے کی تکمیل تک پانچ کروڑ سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے۔مینگرووز نہ صرف ہمیں سمندر کی سطح میں اضافے سے بچاتے ہیں، بلکہ وہ جزیروں کو کٹاؤ سے بھی بچاتے ہیں، اور وہ کاربن کو الگ کرنے میں بہترین ہیں۔وہ زمین پر موجود درختوں کے مقابلے میں پانچ گنا سے 10 گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو الگ کرسکتے ہیں۔ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق مینگروو کے درخت کاربن کو پکڑ سکتے ہیں اور ذخیرہ کرسکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’’مینگرووز جس کیچڑوالی مٹی یا دلدل میں ہوتے ہیں، وہ انتہائی کاربن سے بھرپور ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مینگرووز نہ صرف مٹی کے اس ذخیرے میں اضافہ کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ اسے اور کاربن کو اپنی جگہ پر رکھتے ہیں۔ان درختوں کے نیچے جمع کاربن کی مقدار کا تخمینہ دیگر ٹراپیکل جنگلات کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے ، جس سے یہ ساحلی جنگلات موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ بحیرۂ احمر گلوبل کے پائیدار اہداف زمین پر اس کے آپریشنز تک محدود ہوں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’نقل و حرکت کے لحاظ سے ہمارے پاس نیٹ زیرو ہوگالہٰذا ہمارے پاس برقی گاڑیوں ، بسوں اور ویگنوں کا ایک بیڑا ہوگا۔صنعت ابھی تک مکمل طور پر موجود نہیں ہے، لہٰذا ہم کچھ علاقوں میں جدوجہد کررہے ہیں۔اس کامقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بحیرۂ احمر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اندر اور باہر اڑنے والے طیارے بھی پائیدار ایندھن پر پرواز کریں۔

ان کاکہناتھا کہ ہم روایتی فوسل ایندھن انجن کو طیارے سے اتاردیں گے اور اس کی جگہ ہائیڈروجن فیول سیل لگادیں گے جس میں ہائیڈروجن سے چلنے والی الیکٹرک موٹر استعمال ہوتی ہے۔ہم بڑے خواب دیکھ رہے ہیں۔

بھرتی مہم

بحیرۂ احمر کے منصوبے کے وسیع حجم کی ترقی کے لیے بڑی افرادی قوت کی ضرورت ہے۔

پگانو نے بتایاکہ وہ سعودی عرب کے اندر اور باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو تربیت دینے پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ بے شمار کرداروں کو پر کرنے کے قابل ہو سکیں۔ فرنٹ آف ہاؤس اسٹاف اورمہمان داری کے کارکنوں سے لے کر ہوائی اڈے کے کارکنوں تک، سب بحیرۂ احمر کے منصوبے کی کامیابی کا ایک اہم حصہ ہوں گے۔

پگانو کے مطابق 2018ء میں صرف 15 ملازمین تھے مگرآج ، بحیرۂ احمر گلوبل میں 3،000 سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں۔ہر ماہ کمپنی اپنے روسٹر میں مزید ایک سوکارکنوں کو شامل کرتی ہے۔

ان ہوٹلوں میں اضافی عملہ ہوگا۔اس سال کھلنے والے تین ہوٹلوں میں 1200 سے زیادہ کارکنان ہوں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بحیرۂ احمر گلوبل مملکت بھر میں تربیتی پروگراموں میں مصروف ہے ، جو بحیرۂ احمر کے اندر خالی جگہوں اور مستقبل کے کرداروں کو پر کرنے کے لیے سعودی نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنے کا خواہاں ہےاور ریزورٹ کی ترقی اور توسیع جاری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ہم مہمان نوازی کے عملہ کو تربیت دینے میں مدد کے لیے اپنی تربیتی اکیڈمی شروع کرنے والے ہیں۔سیاحت کو آنے والے شائقین کی مکمل رہ نمائی کے لیے تربیت پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ نیزسعودی ویژن 2030 کا مقصد روزگارکے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ معیشت کو متنوع بنانے میں مدد کرنے کے بارے میں ہے۔

پگانو کا کہنا تھا کہ سعودی شہریوں میں انجینئرنگ یا طب جیسے روایتی شعبوں کے بجائے مملکت کے بڑھتے ہوئے سیاحتی شعبے میں کام کرنے کے لیے جوش و خروش فی الواقع حیرت انگیز ہے۔

انھوں نے چند سال پہلے کے ایک لمحے کی طرف اشارہ کیا جب بحیرۂ احمر گلوبل نے اپنا بین الاقوامی ہاسپٹلٹی مینجمنٹ پروگرام شروع کیا تھا اورچند درجن مقامات نے16,000 سے زیادہ درخواست دہندگان کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ کمپنی کی جانب سے داخلوں کے لیے تازہ اشتہارات کے جواب میں 50 ہزار سے زیادہ درخواستیں آئی ہیں۔

بحیرۂ احمرگلوبل میں برانڈ ڈیولپمنٹ کی عالمی سربراہ ٹریسی ورتھ لینزا نے کہا کہ بھرتی اور ملازمت کے مواقع روایتی اسپتال کے کردار سے کہیں زیادہ ہوں گے۔انہوں نے بحیرۂ احمر گلوبل کی مثال دی جو مقامی سعودی آم کے کاشت کاروں کے ساتھ مل کر اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے باغات اور نرسری فارم تیارکرنے کا کام کر رہا ہے۔

انھوں بتایا کہ ’’یہ منصوبہ صرف زمین کے انتظام کے بارے میں نہیں ہے۔یہ اس بارے میں ہے کہ برادریوں کو کس طرح فائدہ پہنچایا جاسکتاہے۔ لہٰذا، وہاں طویل عرصے سے آباد لوگوں کو ہم مہمان نوازی کی تربیت دے رہے ہیں اور انھیں انگریزی پڑھا رہے ہیں۔ ہم کھیتی کی بہتر تکنیک جیسی چیزیں سکھارہے ہیں۔ ہم معیشت کی تعمیر کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سفر اور سیاحت معیشت کے 10 فی صد کی نمائندگی کریں‘‘۔

بحیرۂٔ احمر کے منصوبے کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد، لینزا نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس سے سعودی معیشت میں سالانہ 77،000 ملازمتوں اور 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوگا۔

سیاحوں کی آمد کے بارے میں پگانو نے پیشین گوئی کی ہے کہ بحیرۂ احمر منصوبہ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ، ہر سال قریباً 350،000 زائرین اس سیاحتی منزل کی سیر کوآئیں گے۔

بحیرۂ احمر گلوبل میں منزل کی ترقی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر روزنا چوپڑا اس بات کو یقینی بنانے کی نگرانی کررہی ہیں کہ زائرین بحیرۂ احمر اور وسیع تر مملکت سے بہترین طریقے سے استفادہ کریں اور وہ سعودی عرب سے خوب لطف اندوز ہوکرواپس جائیں۔

رواں ہفتے اس سعودی ڈویلپر نے ایک نیا ایڈونچر اسپورٹس برانڈ 'اکون' لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ آنے والے پرتعیش ایکو ٹورازم کے مقام پر آنے والے مہمانوں کوسیروتفریح کے نئے مواقع مہیا کرے گا اور واٹر اسپورٹس اور ڈائیونگ برانڈز 'واما' اور 'گلیکسیا' کے ساتھ موجودہ شراکت داری کو پورا کرے گا۔

چوپڑا نے کہا کہ بحیرۂ احمر میں تفریحی پیش کش نہ صرف "اچھا وقت" پیش کرے گی بلکہ لوگوں کو سعودی عرب میں فطرت سے جذباتی طور پر جڑنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جب لوگ یہاں آئیں گے، تو وہ صرف غوطہ خوری کے لیے نہیں آئیں گے۔ وہ ایک محفوظ ماحول میں غوطہ خوری کریں گے۔کوئی ایسا شخص جو انھیں سکھاتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ یہ مرجان اتنا اہم کیوں ہے۔ لہذا، یہ سب کچھ کرنے کے علاوہ ایک بامقصد تجربہ پیش کریں گے۔

پگانو اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ بحیرۂ احمر اور سعودی عرب کو سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرنے کے حوالے سے عالمی نقشے پر کب رکھا جائے گا لیکن سعودی عرب شاید دنیا کا سب سے دلچسپ سفری مقام ہے کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ دنیا میں کوئی اورایسی جگہ ہے جو نسبتاً کم وقت میں اس سطح کی منتقلی اور تبدیلی سے گزری ہو’’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ صرف سورج، ریت اور خوب صورت پانی کے بارے میں نہیں ہے. آپ کے پاس بحیرۂ احمر اور اس کا پورا ماحولیاتی نظام ہے۔ دنیا کا یہ حصہ ہزاروں سال کی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ تہذیب کی جائے پیدائش بھی ہے۔اس طرح، ہمارے پاس ایک حیرت انگیز امتزاج ہے. آپ دھوپ میں وقت گزار سکتے ہیں، پھرالعلاء جا سکتے ہیں اور قدیم بادشاہتوں کا تجربہ کر سکتے ہیں اور کہاں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں؟‘‘

Red Sea

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں