خلیج نیوم کے خرییہ ساحل پر تاریخی عمارتوں کے کھنڈرات، فن تعمیر میں ممتاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں تبوک کے قریب بحیرہ احمر پر واقع نیوم شہر میں ’’عینونہ‘‘ کے قدیم نخلستان کے قریب تاریخی ’’لوکی کومی‘‘ کی بندرگاہ کے ایک حصہ میں قدیم بندرگاہ کی قدیم اور تاریخی عمارتوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ ان کھنڈرات کے زمانے کا تخیمنہ چوتھی صدر قبل مسیح کا لگایا گیا ہے۔

قرون وسطیٰ کے اسلامی دور میں یہ ساحل مصری اور شمالی افریقی زائرین کے لیے حجاز کی مقدس سرزمین کی طرف سفر کے لیے ایک بڑی بندرگاہ کے طور پر کام کرتا تھا۔ اسی بندرگاہ کے ذریعے تجارتی قافلے کی آمد و رفت بھی ہوتی تھی۔

ان کھنڈرات کو فوٹوگرافر عبد الالہ الفارس نے تبوک کے علاقے خریبہ مرکز میں ان عمارتوں کے کھنڈرات کو فنکارانہ پینٹنگز میں تبدیل کردیا۔ ان تصاویر کے ذریعے ان تاریخی اور ورثہ کی عمارتوں کی منظر کشی کی گئی۔ تصاویر اس مہارت سے بنائی گئی ہیں کہ دیکھنے والے تاریخ کے جھروکوں میں گم ہوجاتا ہے۔ یہ تصاویر ان قدیم عمارتوں میں استعمال ہونے والے فن کے اسلوب کا گواہ بن جاتی ہیں۔

عبد الالہ الفارس نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ بحیرہ احمر کے نظاروں کے ساتھ اور اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ممتاز ہے۔ یہاں سے پرانے وقت کی خوشبو آتی ہے اور ماضی کے مکانات اور عمارتوں کے خوبصورت نظارے ایک منفرد ثقافتی ورثہ پیش کرتے ہیں۔ باقی ان کھنڈرات کو محفوظ کیا جانا چاہیے۔ یہ تاریخی عمارتیں ایک منفرد تعمیراتی خصوصیات کی حامل ہیں اور استعمال شدہ مواد کے لحاظ سے خطے کے ماحولیاتی حالات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔

فوٹو گرافر نے کہا یہ تاریخی عمارتیں بحیرہ احمر کے ساحل سے براہ راست دیکھی جا سکتی ہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اندر اور باہر سے سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کھنڈرات ایک "آرکیٹیکچرل سٹائل اور ایک مہذب ثقافتی ورثہ ہے۔ جب آپ عمارتوں کے درمیان سے گزرتے ہیں تو اس کی قدیم تاریخ کی خوشبو آپ کو مسحور کر دیتی ہے۔ انسان فن تعمیر کے کردار اور مکانات کی شکلوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں