بھیڑ کو بچانے کے لیے جان کو خطرے میں ڈالنے والا دلیر آدمی
جنوب مغربی انگلینڈ میں کرس آکسلیڈ آرنوٹ ڈیون نے ساحل پر پتھریلے علاقے میں پھنسی بھیڑ کو نکالا
برطانیہ میں ایک بہادر شخص نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بھیڑ کو بچا لیا جو سمندر میں پتھر پر پھنسی ہوئی تھی۔ بھیڑ کے پھسل کر پانی میں ڈوبنے کا خطرہ تھا۔ اس دلیر شخص کی اہلیہ نے بھیڑ کو بچانے کی اس کارروائی کی تصاویر بنا لیں۔
اخبار ’’میٹرو‘‘ کی طرف سے شائع تفصیلات کے مطابق 51 سالہ آرنوٹ اپنی اہلیہ 55 سالہ گیلی کے ساتھ وولاکومبے میں ساحل پر سیر کر رہا تھا۔ اس دوران انہوں نے مصیبت میں مبتلا بھیڑ کو دیکھا۔ گیلی نے کہا کہ بھیڑ ہمیں ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ ہم سے مدد مانگ رہا ہو۔ ہم نے سوچا اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو وہ مر جائے گا اور ہم اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
گیلی اپنے شوہر کی رہنمائی کے لیے ایک چٹان کی چوٹی پر رہی تاکہ اگر کوئی چیز غلط ہو جائے تو وہ مدد مانگ سکے۔ برطانوی اخبار کے مطابق آرنوٹ کو اس کام کو انجام دینے کی اپنی صلاحیت پر اعتماد تھا کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی چٹانوں پر چڑھتا تھا۔ آرنوٹ نے بتایا کہ بھیڑ مجھے دیکھ کر خوش ہوئی۔ اس نے بتایا کہ جب میں پہلی بار جانور کے پاس پہنچا تو بھیڑ گھبرا کر پانی کی طرف بڑھنے لگی لیکن میں نے اسے پکڑ لیا۔
تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ کرس آرنوٹ ایک بازو کا استعمال کرتے ہوئے جانور کو اپنے گلے سے لگائے رکھتا اور دوسرے ہاتھ کو پتھروں پر چڑھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ کرس آرنوٹ نے کہا جب ہم نے پہلی مرتبہ بھیڑ کے بچے کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ خود اس سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ میں جانوروں کو درد یا تکلیف میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔