پرندوں کی حفاظت کے لیے جزائر فراسان ریزرو میں خصوصی اقدامات کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے قومی مرکز برائے جنگلی حیات نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں واقع جزائر فارسان ریزرو میں پرندوں کی ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنز سے حفاظت کے لیے حفاظتی تہ چڑھانے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

یہ منصوبہ پرندوں کے لیے خطرناک مقامات کی نشاندہی اور ان تمام جگہوں پر حفاظتی تہ کی تنصیب کے لیے سعودی الیکٹرسٹی کمپنی کے اشتراک کے طور پر سامنے آیا ہے۔

قومی مرکز برائے جنگلی حیات میں پرندوں کے محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ السالم نے اس حوالے سے بتایا کہ بجلی کی تاریں ہجرت کرنے والے، خطرے سے دوچار اور مقامی پرندوں کے لیے مہلک خطرہ ہیں، کیونکہ یہ ان پرندوں اور ان کے گھونسلوں کو بلخصوص افزائش، موسم سرما اور ہجرت کے دنوں میں منفی طور پر متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ درمیانی وولٹیج پاور لائنوں کی وجہ سے بجلی کا کرنٹ پوری دنیا میں نقل مکانی کرنے والے اور خطرے سے دوچار پرندوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرندوں کی بہت سی نسلیں اس حوالے سے بہت زیادہ نقصان کا شکار ہیں اور ان کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔

جزائر فارسان میں پرندوں کی حفاظت کے لیے کارکن درمیانی وولٹیج کی بجلی کی لائنوں پر انسولیٹر لگا رہے ہیں۔ (سپلائی شدہ)
جزائر فارسان میں پرندوں کی حفاظت کے لیے کارکن درمیانی وولٹیج کی بجلی کی لائنوں پر انسولیٹر لگا رہے ہیں۔ (سپلائی شدہ)

سعودی سرزمین کی ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان ہجرت کرنے والے پرندوں کے لیے اہم مقام ہونے کی وجہ سے، قومی مرکز زمینی اور سمندری ماحول میں جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اس مقصد کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں سے ایک بجلی کی لائنوں کے خطرات پر مطالعہ اور تحقیق ہے جو پرندوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے اہم ہیں، اور ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع میں اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

جزائر فارسان میں پرندوں کی حفاظت کے لیے کارکن درمیانی وولٹیج کی بجلی کی لائنوں پر انسولیٹر لگا رہے ہیں۔ (سپلائی شدہ)
جزائر فارسان میں پرندوں کی حفاظت کے لیے کارکن درمیانی وولٹیج کی بجلی کی لائنوں پر انسولیٹر لگا رہے ہیں۔ (سپلائی شدہ)

السالم نے مزید کہا کہ قومی مرکز نے ایکویلا اور پرندوں کی بہت سی دوسری نسلوں کی بجلی کے کرنٹ کی وجہ سے موت جیسے واقعات کو ریکارڈ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کیا کہ قومی مرکز نے اس جگلی حیات کے تحفظ کے اہم پروگرام کے تحت پرندوں کے کرنٹ لگنے کے خطرات کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر موجود بہترین طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عشیقر اور القنفودہ میں درمیانے وولٹیج کی بجلی کی لائنوں پرحفاظتی تہ چڑھائی جا رہی ہے۔

اس منصوبہ پر عمل درآمد برڈ لائف انٹرنیشنل اور سعودی الیکٹرسٹی کمپنی کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی اور دوسری شہری سہولتوں کی فراہمی کیلئے لگائے گئے کھمبے پرندوں کے لیے کشش رکھتے ہیں خاص طور کم درختوں والے علاقے جہاں وہ اپنے لئے شکار کرتے ہیں، اس کے علاوہ کوڑے کے ڈبوں کے قریب کھمبے بھی ان کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا درمیانے اور بڑے پرندوں کو بجلی کے کرنٹ لگنے کے خطرے کا ذیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پرندوں کو برقی جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب وہ کنڈکٹرز کو چھوتے ہیں، جس سے شدید اور جان لیوا چوٹیں آتی ہیں اور یہ ارد گرد کے خشک پودوں کو آگ لگانے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

السالم نے بتایا کہ مشرقی بحیرہ روم کے ہجری راستے میں عقاب کی مختلف نسلوں اور دوسرے پرندوں کو درپیش خطرات کا جائزہ لینے کے لیے 682 مختلف سروے اور اسٹڈیز کی گئیں جو کہ یورپ میں افزائش کے میدانوں سے لے کر مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے سرمائی میدانوں تک 13 ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

یہ تحقیق یورپی یونین کی مدد سے ایک منصوبے کے طور پر کی گئی ہے۔ ان میں مملکت کے اندر کئے گئے 52 مطالعات بھی شامل ہیں، اور ان کا مقصد پرندوں کو درپیش خطرات کا تعین کرنا، ان خطرات کو محدود کرنا، اور پرندوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات پر عمل درآمد کرنا ہے۔

اس منظم منصوبے سے 10 لاکھ پرندے جو اس راستے سے سالانہ ہجرت کرتے ہیں اور جن میں 12 خطرے سے دوچار انواع بھی شامل ہیں کو ایک مناسب ماحول کی فراہمی میں نمایاں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں